Abd Add
 

چینی سرمایہ کاری

جنوب مشرقی ایشیامیں چین کا بڑھتا اثر و رسوخ

March 1, 2020 // 0 Comments

شمالی لاؤس کے ایک دور افتادہ حصے میں بانس کا جنگل کرینوں کو راہ دے رہا ہے۔ جنگل میں ایک شہر بسایا جارہا ہے۔ ریسٹورنٹس، مساج پارلر اور دوسری بہت سی تعمیرات کی جارہی ہیں۔ لاؤس، میانمار اور تھائی لینڈ کے سنگم پر واقع ہونے کی بنیاد پر اس علاقے کو گولڈن ٹرائنگل اسپیشل اکنامک زون کہا جارہا ہے۔ اس علاقے کو جدید ترین انداز کا دکھانے کے لیے یہاں شاندار ہوٹل بھی ہیں، بھرپور چمک دمک والے جوئے خانے بھی ہیں۔ اِسی بنیاد پر اِسے ’’لاؤس ویگاس‘‘ بھی کہا جارہا ہے، تاہم لاؤس کے عام شہریوں کا اس علاقے سے کوئی تعلق نہیں۔ جنگل میں آباد کیے جانے والے اس شہر میں چینی کرنسی یوآن چلتی ہے یا تھائی لینڈ کی بھات۔ لاؤس کی [مزید پڑھیے]

چین کی مستقبل بینی

February 1, 2020 // 0 Comments

امریکا اور چین کے درمیان فائیو جی ٹیکنالوجی اور دنیا کے وائیرلیس انفرااسٹرکچر پر کنٹرول کی لڑائی جاری ہے۔ تاہم دنیا کی معیشت اور تحفظ سے متعلق ایک اہم معاملے پر بہت کم توجہ دی جارہی ہے۔یہ معاملہ ہے ڈیجیٹل معیشت کے لیے ضروری معدنیات پر چین کے کنٹرول کا۔ یہ رپورٹ امریکی جریدے Foreign Policy کے تحقیقی شعبے FP Analytics نے مئی ۲۰۱۹ء میں جاری کی ہے۔ کوئی بھی نیا فون، ٹیبلیٹ، گاڑی یا سیٹلائیٹ کچھ مخصوص معدنیات کے بغیر نہیں بن سکتے۔ یہ معدنیات دنیا کے کچھ ہی ممالک میں پائے جاتے ہیں اور ان کے گِنے چُنے متبادل ہی دستیاب ہیں۔چینی کمپنیوں نے غیر شفاف اور اکثر سیاسی طور پر غیر مستحکم ممالک کی منڈیوں میں ان معدنیات اور دھاتوں کی فراہمی [مزید پڑھیے]

چاہ بہار ۔ گوادر تقابل، تناظر کیا ہے؟

July 16, 2016 // 0 Comments

ایران،انڈیا اور افغانستان نے جس دن سے چاہ بہار معاہدے پر دستخط کیے ہیں،بھارتی،وسط ایشیائی اور پاکستانی میڈیا ایک ہذیانی کیفیت کا شکار ہے،کہیں خوف نے ڈیرا جمایا ہوا ہے تو کہیں خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ساری کہانی کو ایک رخ دے دیا گیا ہے کہ بھارت گوادر بندرگاہ کا مقابلہ چاہ بہار کی بندر گاہ سے کرے گا۔لیکن کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ مقابلہ کس تناظر میں ہو گا؟؟ چند سال قبل جب بھارت کی چاہ بہار میں دلچسپی کاغذات کی حد تک تھی اور چائنا پاکستان اقتصادری راہداری کا بھی کوئی وجود نہ تھا،دہلی کے انسٹی ٹیوٹ برائے دفاعی تجزیے ومطالعہ نے خبردار کیا تھا کہ’’گوادر کی بندرگاہ آبنائے ہرمز کے اتنا قریب ہے کہ اس کے اثرات بھارت پر [مزید پڑھیے]

چین میں امریکا مخالف جذبات

March 1, 2010 // 0 Comments

تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہونے کی بنیاد پر چین اب امریکا کے لیے ایک بڑے اور مستقل دردِ سر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ چینیوں نے دنیا بھر میں سرمایہ کاری کی ہے اور بڑے پیمانے پر پیداوار کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ سستی چینی مصنوعات کی بھرمار نے کئی ترقی پذیر ممالک کے صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا ہے۔ یورپ بھی چین کے پنپتے ہوئے عروج سے لرزہ براندام ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ اس کی معاشی قوت بھی زَد میں ہے۔ امریکا کی بدحواسی میں اس لیے اضافہ ہو رہا ہے کہ چین کے طاقتور ہونے سے سب سے زیادہ وہی متاثر ہو رہا ہے اسے یہ خوف بھی لاحق ہے کہ چین کوئی علاقائی اتحاد قائم نہ [مزید پڑھیے]