Abd Add
 

خانہ جنگی

خانہ جنگی کا شکار یمن

January 16, 2018 // 0 Comments

ساحلی شہر حدیدہ سے یمن کے دارالحکومت صنعا جانے والی سڑک کے ساتھ سنگلاخ پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ ان پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بنایاگیا ہے۔ساحل پرپرانے تعمیر شدہ فارم ہاؤسز موجود ہیں،فارم ہاؤسز کے گرد پہاڑ سے نیچے آنے والا بارش کا پانی جمع ہے، جنوب میں گھنے جنگلات ہیں،جہاں ببون اور جنگلی بلیاں رہتی ہیں۔ یمن کا وسیع صحرا مشرق تک پھیلا ہوا ہے۔ علاقے کی دلکشی متاثر کن ہے،مگر یہ سب قدرتی خوبصورتی ہے۔ حقیقت میں تو زمین کا یہ خطہ مصائب کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ کے آغاز سے قبل بھی یمن مشرق وسطیٰ کا سب سے غریب ملک تھا۔ جنگ نے غربت میں خطرناک حد تک اضافہ کردیا ہے، جب سے [مزید پڑھیے]

نوزائیدہ جنوبی سوڈان کی تعمیرِ نو

May 16, 2013 // 0 Comments

جنوبی سوڈان عالمی برادری کا حصہ بننے والا تازہ ترین ملک ہے۔ خانہ جنگی نے اس خطے کو تباہی سے دوچار کیا۔ تیل سے مالا مال اس خطے میں اب تعمیرِ نو کا عمل بھرپور رفتار سے جاری ہے۔ گرد و غبار سے اٹے ہوئے علاقے میں دکانیں اور پتھارے بوتلوں میں بند مشروبات سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ واحد معیاری چیز ہے جو دستیاب ہے۔ جھونپڑیوں کی طرف جانے والی واحد سڑک دھول اور کیچڑ سے عبارت ہے۔ دو سال قبل اس خطے کو آزادی ملی تھی۔ اس نامہ نگار نے تب بھی اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔ یہ گاؤں لریا (Liriya) ان دو برسوں میں کم ہی بدلا ہے۔ جو چند تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں کہ پینے کا صاف [مزید پڑھیے]

امن، ہم آہنگی اور تیل

May 1, 2013 // 0 Comments

عراقی کُرد لاکھ دعوے کرتے پھریں کہ وہ الگ نہیں ہونا چاہتے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مکمل آزادی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انجیل کے علما کہتے ہیں کہ انجیل کے مختلف نسخوں میں جنت کا جو باغ مذکور ہے، وہ جنوبی عراق میں اُس مقام پر تھا، جہاں دریائے دجلہ اور فرات ملتے ہیں۔ مگر جب عراقی رُوئے ارض پر کسی جنت کو تلاش کرتے ہیں تو شمالی عراق میں کرد علاقے کی طرف دیکھتے ہیں۔ بات کچھ ایسی ناقابلِ فہم بھی نہیں۔ گزشتہ ماہ موسم بہار کی آمد کے جشن یعنی نوروز کے موقع پر ہزاروں عراقیوں نے شمالی عراق کا رخ کیا، جہاں باغات پھولوں سے بھرے پڑے ہیں اور پہاڑوں پر برف کے پگھلنے سے پانی بہتا چلا آرہا [مزید پڑھیے]

موغا دیشو: رونقیں لوٹ رہی ہیں!

July 1, 2012 // 0 Comments

صومالیہ کو خانہ جنگی نے تباہ کردیا ہے۔ ملک میں بظاہر کوئی طاقتور مرکزی حکومت نہیں جس کے باعث خرابیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ مغربی میڈیا نے اسلامی شدت پسندی کا ایسا راگ الاپا کہ مشکلات کم ہونے کے بجائے آپس میں ضرب ہوتی گئیں۔ مگر اب صومالیہ کے ساحل کے حوالے سے یہ امید افزا خبر آئی ہے کہ سب کچھ معمول کی طرف لوٹ رہا ہے۔ ایک طرف تو ساحلوں پر رونق بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف ملک میں خریداری کا رجحان بھی تقویت پارہا ہے۔ یہ بہت حیرت انگیز اور خوش کن امر ہے۔ صومایہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ابھی کل تک لوگ کسی نہ کسی طرح صبح سے شام کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ اپنی دکانوں کو سجانے اور [مزید پڑھیے]

1 2