Abd Add
 

سزائے موت

مصر میں قید خاندانوں کی غیر انسانی صورتحال

August 16, 2019 // 0 Comments

فوج نے دریائے نیل کے کنارے سے تعمیراتی کارکن ۲۰سالہ لطفی ابراہیم کو ۲۰۱۵ء کے موسم بہارمیں حراست میں لیا، اس وقت وہ مسجد سے گھر جارہاتھا،تین ماہ زیر حراست رہنے کے بعد جب ابراہیم سے خاندان کے لوگ ملے تو اس کی حالت بہت زیادہ خراب تھی، اس پر بری طرح تشدد کیاگیاتھا۔ ابراہیم کی ماں تہانی نے بتایا کہ انہوں نے تشدد چھپانے کے لیے میرے بیٹے کا ہاتھ آستین سے ڈھک دیاتھا، لیکن ہم پھر بھی اس کے ہاتھوں پر جلنے کے نشانات دیکھ سکتے تھے، اس کاچہرہ پیلا پڑگیاتھا، اس کے بال بھی مونڈ دیے گئے تھے۔ابراہیم پر ملٹری اکیڈمی کے تین طلبہ کو سڑک کنارے بم دھماکے میں قتل کرنے کا الزام تھا۔ ابراہیم نے اپنی بے گناہی کی قسم [مزید پڑھیے]