Abd Add
 

جمہوریت

جمہوریت کے غیر مغربی تصورات کا جائزہ

June 1, 2016 // 0 Comments

عام طور پریہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ مغربی آزاد خیال جمہوریت اپنی ساکھ کھو رہی ہے اور یہ کہ بین الاقوامی برادری کو ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی طاقتوں میں غیر مغربی سیاسی ماڈلوں کے لیے زیادہ متحمل اور حوصلہ افزا رویہ رکھنا چاہیے۔ جمہوریت کی غیر مغربی اشکال کے بارے میں ارد گرد سے آوازیں توکئی سالوں سے لگائی جا رہی ہیں لیکن اب ان کا شور ہرجگہ سنائی دینے لگا ہے۔ ابھرتے ہوئے پوسٹ ویسٹرن ورلڈ آرڈر کے ایک لازمی عنصر کی حیثیت سے اس رجحان کے اور مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ مغرب سے باہر لوگوں کی یہ خواہش کہ جمہوری تجدید کے لیے نئے خیالات تصرّف میں لائے جائیں اور اس کے ساتھ ہی ان کاجمہوریت پر مقامی ملکیت کا [مزید پڑھیے]

آمریت سے جمہوریت کا سفر

December 16, 2015 // 0 Comments

میانمار (برما) ایک زمانے سے آمریت کے شکنجے میں چلا آرہا ہے۔ ملک کی جمہوری قوتیں اب تک اپنے آپ کو پوری طرح منوانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ میانمار میں آمریت کی راہ ترک کرکے جمہوریت کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا عمل انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ معمولی سی غلطی ملک کو دوبارہ آمریت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ میانمار میں پولنگ کے تمام مراحل مکمل ہوچکے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر آنگ سانگ سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ۸ نومبر سے شروع ہونے والے انتخابات میں مجموعی طور پر ۷۷ فیصد نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ حکمراں فوجی قیادت کی حمایت یافتہ یونین سالیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے شرمناک حد تک معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ۱۰ فیصد نشستیں [مزید پڑھیے]

پاکستان میں جمہوریت سے متعلق پس و پیش

May 1, 2005 // 0 Comments

ڈاکٹر بیٹینا روبوٹکا (Betina Robotka) کا تعلق مشرقی جرمنی سے ہے اور وہ برلن یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے ۱۹۷۸ء تک روس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں جنوبی ایشیا کی عصری تاریخ پر تحقیق کر کے برلن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تکمیل کی۔ فی الوقت وہ کراچی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے اساتذہ کے تبادلے کے پروگرام کے تحت یونیورسٹی میں لیکچر دینے تشریف لائی ہوئی ہیں۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے مسائل پر ان کی آرا بڑی منفرد ہیں۔ جمہوریت کے حوالے سے بھی انہوں نے ہند و پاکستان کے مسائل اور تجربات کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ (ادارہ) ٭ پارلیمانی جمہوریت [مزید پڑھیے]

میں ’’عالمی یک طرفہ پن‘‘ کا حامی نہیں ہوں!

April 16, 2005 // 0 Comments

گذشتہ ہفتے عالمی بینک کے سربراہ کے لیے اپنی نامزدگی کے ساتھ ہی Paul Wolfowitz (امریکی نائب وزیرِ دفاع) نے بیرونی تشویش و عدم اعتماد کو اپنے واضح بیان کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کی۔ نیوز ویک کے نمائندے لیلی ویمائوتھ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں انہوں نے امکانات سے بھرپور اپنی نئی ذمہ داری کے سلسلے میں اظہارِ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکا کی عراق پالیسی تشکیل دینے کے حوالے سے اپنے ماضی اور حال کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انٹرویو کا اقتباس درج ذیل ہے: س: عالمی بینک کے ایک اچھے سربراہ ثابت ہونے سے متعلق آپ یورپی ممالک کو کس طرح مطمئن کریں گے؟ ج: میں یورپی ممالک کو یہ بتائوں گا کہ میں کیوں ایک [مزید پڑھیے]