اقتصادی راہداری

چاہ بہار ۔ گوادر تقابل، تناظر کیا ہے؟

July 16, 2016 // 0 Comments

ایران،انڈیا اور افغانستان نے جس دن سے چاہ بہار معاہدے پر دستخط کیے ہیں،بھارتی،وسط ایشیائی اور پاکستانی میڈیا ایک ہذیانی کیفیت کا شکار ہے،کہیں خوف نے ڈیرا جمایا ہوا ہے تو کہیں خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ساری کہانی کو ایک رخ دے دیا گیا ہے کہ بھارت گوادر بندرگاہ کا مقابلہ چاہ بہار کی بندر گاہ سے کرے گا۔لیکن کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ مقابلہ کس تناظر میں ہو گا؟؟ چند سال قبل جب بھارت کی چاہ بہار میں دلچسپی کاغذات کی حد تک تھی اور چائنا پاکستان اقتصادری راہداری کا بھی کوئی وجود نہ تھا،دہلی کے انسٹی ٹیوٹ برائے دفاعی تجزیے ومطالعہ نے خبردار کیا تھا کہ’’گوادر کی بندرگاہ آبنائے ہرمز کے اتنا قریب ہے کہ اس کے اثرات بھارت پر [مزید پڑھیے]

’’پاک چین اقتصادی راہداری: تعارف، امکانات اور اثرات‘‘

October 1, 2015 // 0 Comments

مورخہ ۱۲؍ستمبر ۲۰۱۵ء کو اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی میں ’’معارف لیکچر سیریز‘‘ کے تحت ’’پاک چین اقتصادی راہداری: تعارف، امکانات اور اثرات‘‘ کے موضوع پر پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر کا لیکچر منعقد ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر امورِ خارجہ کے ماہر اور جامعہ کراچی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں۔ آپ دنیا بھر میں مختلف تحقیقی مراکز سے وابستہ رہنے کے علاوہ بین الاقوامی امورسے متعلق سیمینار اور کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ آج کل جامعہ کراچی میں رئیس کلیہ سماجی علوم کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پیکنگ یونیورسٹی میں پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کے موضوع پر منعقدہ سیمینارمیں بھی شرکت کی۔ وہ اسلامک [مزید پڑھیے]

پاک چین اقتصادی راہداری اور ممکنہ خطرات

July 16, 2015 // 0 Comments

نیم فوجی دستوں کی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے کراچی جانے والی بس کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور اس کے بعد ان تمام افراد کو قتل کر دیا، جو اُن کے خیال میں پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان کے مقامی نہیں تھے۔ ۲۹ مئی ۲۰۱۵ء کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے جنوب میں ایک ویران سڑک پر پیش آنے والے اس واقعے میں مجموعی طور پر ۲۲ پشتون قتل ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری صوبے میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں میں سے ایک متحدہ بلوچ آرمی نے قبول کی۔ بلوچستان میں موجودہ عسکریت پسندی کا آغاز ایک دہائی قبل ہوا تھا۔ ۱۹۴۷ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعدپاکستان کے سب سے بڑے، غیر گنجان آباد اور [مزید پڑھیے]