Abd Add
 

مصر

مصر، فوجی بغاوت کے بعد۔۔۔

July 1, 2013 // 0 Comments

فوج کی جانب سے منتخب مصری حکومت پر شب خون مارنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور صدر مرسی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اخوان کا مرکزی احتجاج قاہرہ کے رابعہ العدویہ (رابعہ بصری) کے میدان میں ہو رہا ہے اور مظاہرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ احتجاج کو روکنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج لاٹھی چارج، آنسو گیس اور کہیں کہیں براہِ راست فائرنگ بھی کر رہی ہے۔ فوجی انقلاب کے بعد سے اب تک مظاہروں میں ۶۰ سے زائد افراد شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز ایک مظاہرے کے دوران مظاہرین نے شہداء کی لاشیں اٹھا کر مارچ کیا اور فوج [مزید پڑھیے]

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|9

June 1, 2013 // 0 Comments

دفعہ ۲۱۱: ریفرنڈم، پارلیمانی یا صدارتی انتخابات اور ان کے نتائج سے متعلق قومی انتخابی کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں پر ’اعلیٰ ترین انتظامی عدالت‘ فیصلہ دے گی۔ مقامی (بلدیاتی) انتخابات سے متعلق اپیلیں انتظامی عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ قانون اپیلوں کا طریقہ کار اور فیصلوں کی حتمی تاریخ (Timeline) کا ضابطہ اس طرح بنائے گا کہ انتخابی عمل یا نتائج کا حتمی اعلان اس سے متاثر نہ ہو۔ ریفرنڈم یا صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج کو ان کے اعلان کے بعد چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ تمام صورتوں میں پولنگ کی تاریخ کے آٹھ دن سے زیادہ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ باب پنجم: خودمختار ادارے سیکشن 1: اعلیٰ ترین ادارہ برائے امور اوقاف دفعہ [مزید پڑھیے]

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|8

May 16, 2013 // 0 Comments

سیکشن ۶: عدالتی افسران دفعہ۱۸۱: قانون ایک آزاد پیشہ ہے اور نظامِ عدل کی بنیاد ہے۔ وکلا اپنے پیشے کی مصروفیت میں خود مختار ہوں گے، انہیں اس سلسلے میں حفاظتی ضمانت حاصل ہو گی، جو انہیں تحفظ دے گی تاکہ وہ قانون کے مطابق بنائے گئے ضوابط کے تحت اپنے کام جاری رکھ سکیں۔ دفعہ۱۸۲: جائداد کے تشہیری محکمے، فارنزک (Forensic) ماہرین اور عدالتی ماہرین کو اپنے کاموں میں تکنیکی خود مختاری حاصل ہو گی۔ باب چہارم: مقامی انتظامیہ سیکشن ۱:ـ ریاست کی مقامی انتظامیہ کے لحاظ سے تقسیم دفعہ۱۸۳: ریاست کو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں عدالتی و قانونی حیثیت حاصل ہو گی، ان میں گورنریٹ، صوبے، شہر، اضلاع اور دیہات شامل ہوں گے۔ ایک انتظامی علاقہ ایک سے زائد [مزید پڑھیے]

مصر اور ایران کی ’’مقدس سیاست‘‘

May 16, 2013 // 0 Comments

مصر کے صدر محمد مرسی نے گزشتہ ماہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد سے ہاتھ کیا ملایا، اب انہیں ہر طرف سے مخالفت اور تنقید کا سامنا ہے۔ حد یہ ہے کہ ان کے اپنے (حکمراں حلقے کے) لوگ بھی انہیں شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ نائب صدر، وزیر انصاف اور چند سینئر بیورو کریٹس سمیت بہت سے لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ ۲۳؍اپریل کو مصری صدر کے ایک سینئر لیگل ایڈوائزر فواد جداللہ نے شدید غصے کی حالت میں استعفیٰ دے دیا اور ایک خط عوام کے نام لکھا جس میں صدر محمد مرسی کے بارے میں کہا کہ وہ بصیرت نہیں رکھتے، مصری نوجوانوں کے ولولے کو بروئے کار لاکر انقلاب کے اہداف حاصل کرنا نہیں جانتے اور یہ [مزید پڑھیے]

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|7

May 1, 2013 // 0 Comments

دفعہ ۱۶۱: کابینہ کا کوئی رکن اپنے دائرہ کار میں آنے والے کسی مسئلے سے متعلق ایوان نمائندگان، شوریٰ کونسل، یا ان کی کمیٹیوں کے سامنے کوئی بیان دے سکتا ہے۔ کونسل یا کمیٹی ایسے بیان پر بحث کر سکتی ہے اور اس پر اپنا موقف دے سکتی ہے۔ دفعہ ۱۶۲: وزیر اعظم قوانین کے نفاذ کی غرض سے ضروری ضوابط جاری کر سکے گا لیکن شرط یہ ہو گی کہ ان ضوابط کے نفاذ سے کوئی خلل، ترمیم یا استثنیٰ واقع نہ ہو، اور (وزیراعظم کو) ان کے اجرا کا اختیار کسی کو سونپ دینے کا حق ہو گا، ماسوائے اس کے کہ قانون ہی میں یہ امر درج ہو کہ اس کے نفاذ کے لیے ضروری ضوابط کون جاری کر سکتا ہے۔ دفعہ [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 7