Abd Add
 

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ

لسانی امتیاز اور تفریق، معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے!

October 16, 2018 // 1 Comment

میں جب لمز یونیورسٹی میں جسٹس صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو کچھ طلبہ و طالبات بیٹھے تھے اور باہمی گفتگو جاری تھی۔ کمرے کا ظاہری ماحول انتہائی خوشگوار تھا اور باطنی ماحول انتہائی صوفیانہ۔ طلبہ و طالبات جب چلے گئے تو میں نے خواجہ صاحب سے بات کچھ اس انداز سے شروع کی۔ سوال: مجھے بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ نوجوان نسل آپ کے تجربات و مشاہدات سے فیض یاب ہو رہی ہے، میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ قومی زبان اردو کے بارے میں پاکستان کا آئین کیا کہتا ہے؟ جواب: ایسا نہیں ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں اور علم و فضل کے چشمے بہا رہا ہوں اور اس سے لوگ سیراب ہو رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے، [مزید پڑھیے]