Abd Add
 

غزہ

غزہ فلسطین کا ایک علاقہ ہے جس کی سرحد مصر سے ملتی ہے۔ اس علاقہ کو اسرائیل نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس کی تجارت اور خارجی معاملات بھی آزاد نہیں۔ اس علاقے میں اسرائیل نے 38 سال قبضہ کرنے کے بعد چھوڑا تو اس کے بعد ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا ہے

اسرائیل کے ساتھ جنگ، حماس کے مفاد میں نہیں!

October 16, 2018 // 0 Comments

حماس کے رہنما نے حال ہی میں یہ بیان جاری کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہم اب جنگ نہیں چاہتے، عبرانی ڈیلی نیوز پیپر اور ’’لاریپلک‘‘ نے حماس کے رہنما ’’یحییٰ سنوار‘‘ کا جمعہ کو انٹرویو شائع کیا،جس میں انہوں کہا کہ ’’حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے ذریعے غزہ کی سرحد پر سے پابندیاں ختم کرناچاہتی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے ذریعے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے‘‘۔ سنوار نے اٹلی کے صحافی فرنسسکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے شہری ۲۰۰۷ ء سے پہلے ہی (جب کہ غزہ کی سرحدی پٹی پر پابندی نہیں لگی تھی) اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے لیے [مزید پڑھیے]

غزہ: احتجاج کے سوا کچھ کرنے کو نہیں!

July 1, 2018 // 0 Comments

سرجن ’’مازن قصاص‘‘ ایک مریض کی زخمی ٹانگ کا معائنہ کر رہے تھے، جس کو اسنائپر سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ حالانکہ مازن قصاص کو۱۲ گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد اس وقت آرام کے لیے اپنے بستر پرہونا چاہیے تھا،لیکن وہ زخمیوں کے علاج کے لیے واپس اسپتال آگئے تھے۔یہ گزشتہ چار برس میں غزہ کا بدترین خونی دن تھا،اسپتال میں گنجائش سے کہیں زیادہ زخمی علاج کے لیے موجود تھے۔ انہوں نے ایک زخمی کی پٹی اتاری تو انتہائی بڑا اور گہرا زخم سامنے آگیا، یہ اسنائپر کی گولی کا زخم تھا۔ وہ نرس کو ہدایت دے کر آگے بڑھ گئے۔ مازن کا ۵۰ اور مریض بھی انتظار کررہے تھے۔ ’’گزشتہ روز جنگ کا بدترین دن تھا، مریضوں کا سارا رش ایک ہی [مزید پڑھیے]

حماس کی نئی قیادت: یحییٰ سِنوار

June 16, 2018 // 0 Comments

یحییٰ سِنوار شاید اس وقت فلسطین کی سب سے با اثر شخصیت ہیں۔انھوں نے اپنی ۵۶ سالہ زندگی کا بڑاحصہ جیل میں گزارا، چاہے وہ اسرائیلی جیل ہو یا غزہ جیسی کھلی جیل۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر ۶۰ فلسطینی مظاہرین کو ہلاک کیے جانے کے دو روز بعد ۱۶ مئی کو غزہ کے باسی یہ جاننے کے لیے ٹیلی ویژن کے گرد جمع تھے کہ کیا اشتعال اور تشدد کی نئی لہر انھیں ایک اور جنگ کی طرف دھکیل دے گی؟وہ نہ تو فلسطینی صدر محمود عباس کو سن رہے تھے اور نہ ہی حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو، بلکہ وہ غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کو سن رہے تھے جو آنے والے وقت میں پورے [مزید پڑھیے]

غزہ۔ بیس لاکھ مسلمانوں کی جیل

July 16, 2017 // 0 Comments

یہ ایک چھوٹا سا فلسطینی علاقہ ہے جو کہ ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیلی جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے ساتھ اسرائیل کے قبضے میں آیا تھا۔ بحیرہ روم کے ساحل پر موجود یہ علاقہ رقبے کے لحاظ سے تقریباً امریکی شہر ڈیٹرؤاٹ (Detroit) کے برابر ہے جس کا رقبہ لگ بھگ ۳۶۰ مربع کلومیٹر ہے۔ اس علاقے کا جنوب مغربی حصہ مصر کے ساتھ جبکہ شمالی اور مشرقی حصہ اسرائیل کے ساتھ ملتا ہے۔ ۱۹۴۸میں اسرائیل کے وجود سے پہلے غزہ ایک پر امن فلسطین کا حصہ تھا۔ مگر اسی سال عرب اسرائیل جنگ کے دوران مصر نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ جوکہ ۱۹۶۷تک قائم رہا۔ جبکہ اسرائیل نے بقایا فلسطین پر عربوں سے جنگ کے بعد اپنا تسلط [مزید پڑھیے]

غزہ: تعمیر نو کے وعدے کب پورے ہوں گے؟

May 16, 2015 // 0 Comments

گزشتہ موسم گرما میں غزہ پر اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے اُنیس ہزار مکانات میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کی تعمیر نو ہو چکی ہو۔ ۵ء۳ بلین ڈالر کی امداد کے وعدوں کے چھ ماہ بعد بھی صورتحال مایوس کن ہے اور امدادی رقم کا ایک چوتھائی حصہ ہی غزہ پہنچ سکا ہے۔ غزہ کی اٹھارہ لاکھ کی آبادی میں سے ایک لاکھ لوگ سخت سردی اور بارشوں کا موسم خیموں، ٹرالروں اور تباہ شدہ مکانات کے ملبے پر گزارنے کے بعد بھی بے گھر ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اسرائیلی حکومت ہے، جو غزہ کو بہت کم مقدار میں سیمنٹ درآمد کرنے کی اجازت دے رہی ہے، اس کا موقف ہے کہ تعمیراتی مواد فوجی مقاصد اور سرنگوں کی تعمیر [مزید پڑھیے]

ڈَچ باشندے نے اسرائیلی میڈل لوٹا دیا

August 16, 2014 // 0 Comments

دوسری جنگ عظیم میں ایک یہودی لڑکے کی جان بچانے پر اسرائیلی حکومت کی طرف سے دیا جانے والا ایک ایوارڈ ہالینڈ کے ایک باشندے نے اسرائیلی سفارت خانے کو لوٹا دیا ہے۔ ۹۱ سالہ ہنک زنولی کے چھ رشتہ دار غزہ پر اسرائیلی بمباری میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہنک زنولی نے ’’رائٹیس اَمنگ دی نیشنز‘‘ میڈل اسرائیلی سفارت خانے کو لوٹانے کے ساتھ ہی ایک خط بھی دیا ہے جس میں لکھا ہے

اسرائیل کے خلاف مزاحمت ختم کرنے کا منصوبہ

August 1, 2014 // 0 Comments

قاہرہ میں سیاسیات کے پروفیسر عبداللہ العشال کا کہنا ہے کہ مصر نے حال ہی میں عرب وزرائے خارجہ کے فورم پر غزہ میں جس جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، اس کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو غیر مسلح کرکے ان کی طرف سے اسرائیلی مظالم کی راہ مکمل طور پر مسدود کرنا ہے۔ القدس پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے عبداللہ العشال نے کہا کہ عرب وزرائے خارجہ نے جنگ بندی کی جو تجویز پیش کی ہے اس کے نتیجے میں اسرائیلی مظالم کے خلاف عرب دنیا کی مزاحمت بڑھنے کے بجائے غیر معمولی حد تک کم ہوجائے گی اور اسرائیلی مظالم کے سامنے بند باندھنے کی کوئی صورت نہ رہے گی

1 2 3