Abd Add
 

غزہ

غزہ فلسطین کا ایک علاقہ ہے جس کی سرحد مصر سے ملتی ہے۔ اس علاقہ کو اسرائیل نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس کی تجارت اور خارجی معاملات بھی آزاد نہیں۔ اس علاقے میں اسرائیل نے 38 سال قبضہ کرنے کے بعد چھوڑا تو اس کے بعد ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا ہے

غزہ کے حالات معمول پر آ سکیں گے؟

July 1, 2012 // 0 Comments

غزہ کا پانچ سالہ محاصرہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ لڑائی ختم ہوچکی ہے۔ بمباری کا اب نشان نہیں۔ یہ بجائے خود خوشی کا موقع ہے۔ مگر حماس کے حلقوں میں دور دور تک حقیقی مسرت کے آثار نہیں۔ حماس نے ۱۴؍جون کو ملٹری ٹیک اوور کی سالگرہ منانا بھی گوارا نہ کیا۔ غزہ شہر کی انتظامیہ معاملات درست کرنے میں مصروف ہے۔ داخلی سلامتی کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ انتظامی امور کو بہتر انداز سے انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مصر سے تجارتی روابط بڑھائے جارہے ہیں تاکہ مشکلات کم ہوں اور معیشت رواں ہوں۔ ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ حماس اب سیاسی سمت کے اعتبار سے مخمصے میں ہے۔ چند ماہ کے دوران حماس نے الفتح [مزید پڑھیے]

حماس کرپشن سے پاک مقبول عوامی جماعت ہے!

May 16, 2011 // 0 Comments

اسرائیل کے فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے امور کے ماہر اور سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر شائول مشعل نے کہا ہے کہ فلسطین میں انتخابات چاہے ایک دن کے اندر ہوں یا ایک سال بعد ہوں، ہر صورت میں اکثریت کے ساتھ کامیاب ہونے والی جماعت صرف حماس ہوگی۔ صہیونی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حماس کا دامن کرپشن اور بدعنوانی کی آلودگی سے پاک ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی تجزیہ نگار نے حال ہی میں ’’یافی صہیونی اسٹڈی سینٹر ‘‘ کے زیراہتمام ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں فلسطین میں انتخابی سیاست میں کامیاب اور ناکام ہونے والی سیاسی جماعتوں کا مفصل احوال بیان کیاگیا ہے۔ صہیونی تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ محمود عباس اور ان کی جماعت کی [مزید پڑھیے]

صرف اقدامات ہی موثر ہیں!

June 16, 2005 // 0 Comments

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی ٹائم کے یروشلم بیورو چیف Matt Rees اور ورلڈ ایڈیٹر Romesh Ratnesar سے ملاقات ہوئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں انخلاء کے منصوبے کی منظوری کے بعد شیرون کا کسی میگزین کے ساتھ پہلا انٹرویو ہے‘ جس کا اقتباس درج ذیل ہے: ٹائم: یہ بہت ہی خوبصورت گھر ہے۔ شیرون: میری رہائش کا یہاں پانچواں سال ہے۔ ٹائم: ابھی کتنے سال اور آپ یہاں رہیں گے؟ شیرون: مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کر رہا ہوں۔ ٹائم: اگر آپ ماضی کے اس مقام پر جا کر سوچیں جبکہ آپ ایک نوجوان فوجی افسر تھے تو ۲۰۰۵ء کا اسرائیل آپ کے خیال میں کس طرح کا ہونا چاہیے؟ شیرون: میں نے اس وقت یہی سوچا تھا کہ [مزید پڑھیے]

فلسطین: جہاں زندگی کی کوئی ضمانت نہیں!

March 1, 2005 // 0 Comments

دس سالہ نوراں عباد کسی بھی عالم طالبہ کی طرح اسکول گئی تھی‘ کیونکہ یہ دن اس کے لیے بہت ہی خاص اور اہم تھا‘ اسے اسکول کا رزلٹ ملنے والا تھا۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ بدقسمتی اس کے تعاقب میں ہے۔ وہ جب واپس آئی تو وہ خود اپنے پیروں پر چل کر نہیں بلکہ دوسروں کے کاندھوں پر سوار ہو کر آئی اور اسے رزلٹ کے بجائے موت کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا۔ یہ کہانی فلسطین میں نئی نہیں ہے بلکہ یہ وہاں کا معمول ہے۔ نوراں کی طرح بے شمار افراد بغیر کسی غلطی کے روزانہ اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان میں معصوم طلبہ بھی شامل ہیں جو اسکول جاتے ہیں‘ بزرگ افراد ہیں‘ جو سودا [مزید پڑھیے]

1 2 3