Abd Add
 

جارج ڈبلیو بش

جارج واکر بش (George Walker Bush) امریکہ کے سابق اور 43 ویں صدر ہیں۔ صدر بش دوسری بار امریکی صدارت کے لیۓ منتخب ہوۓ ہیں۔ وہ 2001 اور 2004 میں منتخب ہوۓ۔ اپنے ہمنام باپ سے ممیز کرنے کے لیے اسے عرف عام میں “ڈب یا (doubya یعنی انگریزی حرف W)” کہا اور لکھا جاتا تھا،

نائن الیون، القاعدہ اور امریکی پروپیگنڈا مشینری

September 1, 2010 // 0 Comments

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے نزدیک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت امریکا بھر میں تجزیاتی فیشن کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہر وقت اس کی وکالت میں رطب اللسان رہتے ہیں وہ بھی گراؤنڈ زیرو مسجد کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ مرکزی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھول بھی پیٹا جارہا ہے کہ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوچکی ہے اور نائن الیون جیسا ایک اور واقعہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ جارج واکر بش، ڈک چینی اور ان کے رفقا نے نو [مزید پڑھیے]

عراق میں بش کی ناکامی کے اسباب

October 1, 2006 // 0 Comments

نور المالکی رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اپنی ملاقات میں‘ جو کہ ایک نادر اعزاز ہے بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا ایک دوست اور برادر ملک قرار دیا۔ یہ بیان بش کی پالیسی کی ناکامی کا مظہر ہے جس کے ذریعہ و ہ تہران کی یورینیم افزودگی کے سلسلے کو نمایاں کرتے ہوئے اسے عالمی برادری سے الگ تھلگ کرنا چاہتے ہیں

شمالی کوریا کو کچھ مزید چاہیے!

August 1, 2005 // 0 Comments

جیسا کہ دونوں کوریا‘ امریکا‘ چین‘ جاپان اور روس ایک سال سے زائد کی مدت میں شش فریقی گفتگوکے پہلے رائونڈ کی تیاری کر رہے ہیں‘ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار سے غیرمسلح کیے جانے کے مرکزی مسئلے پر پیش رفت کی امید ہو چلی ہے۔ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو عظیم مقدار میں بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے‘ اس شرط پر کہ پیانگ یانگ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک سرسری اندازے کے مطابق اس وقت شمالی کوریا کے پاس ۸ جوہری بم ہیں۔ امریکا نے مراعات کے حوالے سے شاید ہی کوئی متعین بات کی ہو لیکن وہ جنوبی کوریا کی پیشکش کے سبب ایک طرح کا اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس نے شمالی کوریا [مزید پڑھیے]

برطانوی مسلمانوں پر عتاب

July 16, 2005 // 0 Comments

برطانیہ سے موصول ہونے والی اور برطانوی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹوں نیز مضامین کے مطالعہ سے اگر کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے تو یہ کہ ٹونی بلیئر کے ملک کی صورتحال اس وقت بالکل ویسی ہے جیسی ’’نائن الیون‘‘ کے بعد جارج بش کے امریکا کی تھی۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر نے پورے برطانیہ کو دبوچ لیا ہے اور اسی لہر کے زیرِ اثر ہر مکتبِ فکر اپنے زاویۂ نگاہ سے سوچ رہا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ مدارس میں دی جانے والی تعلیم اور مساجد میں دورانِ خطبہ استعمال کیے جانے والے الفاظ کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کون سے الفاظ نوجوان ذہنوں پر کس طرح اثرانداز ہو رہے ہیں [مزید پڑھیے]

ہمیں یورپ کا ایک نیا تصور ایجاد کرنا ہو گا!

July 1, 2005 // 0 Comments

نئی لیبر حکمتِ عملی کے معمار Peter Mandelson ٹونی بلیئر کے بہت ہی قابلِ اعتماد مشیر رہے ہیں۔ اب جبکہ وہ یورپی یونین کے کمشنر برائے تجارت ہیں ان کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ یورپ تجارتی مسابقت میں آگے رہے۔ گذشتہ ہفتے برسلز میں انہوں نے ’’ٹائم‘‘ کے نمائندے Leo Cendrowicz سے گفتگو کی۔ یہ گفتگو جاری تھی کہ ۱۰ ڈائوننگ اسٹریٹ سے ایک فون کال نے اس انٹرویو کے سلسلہ کو منقطع کر دیا: س: یورپی یونین کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔ کس طرح یورپی یونین روز افزوں پیچیدہ صورتحال میں اپنے آپ کو حالات سے ہم آہنگ بنا سکتا ہے؟ ج: یہ سمت کا بحران ہے نہ کہ شناخت کا۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ [مزید پڑھیے]

1 2