Abd Add
 

حماس

a Palestinian Islamic movement founded in 1987 with the aim of establishing a Palestinian state

اسرائیل کے ساتھ جنگ، حماس کے مفاد میں نہیں!

October 16, 2018 // 0 Comments

حماس کے رہنما نے حال ہی میں یہ بیان جاری کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہم اب جنگ نہیں چاہتے، عبرانی ڈیلی نیوز پیپر اور ’’لاریپلک‘‘ نے حماس کے رہنما ’’یحییٰ سنوار‘‘ کا جمعہ کو انٹرویو شائع کیا،جس میں انہوں کہا کہ ’’حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے ذریعے غزہ کی سرحد پر سے پابندیاں ختم کرناچاہتی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے ذریعے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے‘‘۔ سنوار نے اٹلی کے صحافی فرنسسکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے شہری ۲۰۰۷ ء سے پہلے ہی (جب کہ غزہ کی سرحدی پٹی پر پابندی نہیں لگی تھی) اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے لیے [مزید پڑھیے]

حماس کی نئی قیادت: یحییٰ سِنوار

June 16, 2018 // 0 Comments

یحییٰ سِنوار شاید اس وقت فلسطین کی سب سے با اثر شخصیت ہیں۔انھوں نے اپنی ۵۶ سالہ زندگی کا بڑاحصہ جیل میں گزارا، چاہے وہ اسرائیلی جیل ہو یا غزہ جیسی کھلی جیل۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر ۶۰ فلسطینی مظاہرین کو ہلاک کیے جانے کے دو روز بعد ۱۶ مئی کو غزہ کے باسی یہ جاننے کے لیے ٹیلی ویژن کے گرد جمع تھے کہ کیا اشتعال اور تشدد کی نئی لہر انھیں ایک اور جنگ کی طرف دھکیل دے گی؟وہ نہ تو فلسطینی صدر محمود عباس کو سن رہے تھے اور نہ ہی حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو، بلکہ وہ غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کو سن رہے تھے جو آنے والے وقت میں پورے [مزید پڑھیے]

خالد مشعل کا دورۂ جنوبی افریقا

November 1, 2015 // 0 Comments

جنوبی افریقا کی جانب سے حماس کی اعلیٰ قیادت کو تاریخی استقبالیہ دیے جانے سے صہیونی ریاست چراغ پا ہوگئی ہے اور اس نے تل ابیب میں جنوبی افریقا کے سفیر کو طلب کرکے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ خالد مشعل کی قیادت میں حماس کا ایک وفد ۱۸؍اکتوبر کو کیپ ٹائون پہنچا۔ اس وفد کا جنوبی افریقا میں شاندار استقبال کیا گیا جس سے صہیونی ریاست چراغ پا ہے۔ اس وفد نے اپنے دورے کے پہلے دن جنوبی افریقا کے صدر جیکب روما سے ملاقات کی۔ حماس کے وفد میں موسیٰ ابومرزوق اور محمد نزال بھی شامل تھے۔ اطلاع ہے کہ خالد مشعل کیپ ٹائون کے وسط میں ایک عوامی ریلی میں بھی شرکت کریں گے۔ علاوہ [مزید پڑھیے]

1 2