Abd Add
 

حوثی قبائل

خانہ جنگی کا شکار یمن

January 16, 2018 // 0 Comments

ساحلی شہر حدیدہ سے یمن کے دارالحکومت صنعا جانے والی سڑک کے ساتھ سنگلاخ پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ ان پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بنایاگیا ہے۔ساحل پرپرانے تعمیر شدہ فارم ہاؤسز موجود ہیں،فارم ہاؤسز کے گرد پہاڑ سے نیچے آنے والا بارش کا پانی جمع ہے، جنوب میں گھنے جنگلات ہیں،جہاں ببون اور جنگلی بلیاں رہتی ہیں۔ یمن کا وسیع صحرا مشرق تک پھیلا ہوا ہے۔ علاقے کی دلکشی متاثر کن ہے،مگر یہ سب قدرتی خوبصورتی ہے۔ حقیقت میں تو زمین کا یہ خطہ مصائب کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ کے آغاز سے قبل بھی یمن مشرق وسطیٰ کا سب سے غریب ملک تھا۔ جنگ نے غربت میں خطرناک حد تک اضافہ کردیا ہے، جب سے [مزید پڑھیے]

سعودی عرب :بادشاہت کے لیے ممکنہ چیلنج

June 16, 2015 // 0 Comments

برقع پوش خواتین اپنے اسمارٹ فون پر ان کی تصاویر لگا کر خوش ہو رہی ہیں،صحافی ان کے ہر اقدام پر تعریف کے پل باندھ رہے ہیں،سفارت کار ان کے بارے میں چھوٹی چھوٹی خبریں حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف نظر آتے تاکہ اپنے دارالحکومتوں کو با خبر رکھ سکیں۔وہ نوکر شاہی جو کبھی سارا دن میزوں پر سر رکھے اونگھتی تھی، اب راتوں کو جاگ کر ان کے احکامات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف نظر آتی ہے۔ان سب باتوں کی وجہ ہیں محمد بن سلمان،سعودیہ کے وزیر دفاع اور بادشاہ سلمان کے شاہی فرمان کے مطابق نائب ولی عہد،جنہوں نے غیر معروف ہوتے دارالحکومت ریاض کو دوبارہ شہ سرخیوں میں جگہ دلا دی ہے۔ جنوری میں بننے والے بادشاہ سلمان جو کہ [مزید پڑھیے]

یمن: ’’منقسم مکان‘‘ کا تنہا مالک

May 16, 2010 // 0 Comments

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کی فن کاری اور مہارت کی داد تو دینی پڑے گی۔ ۱۹۷۸ء سے وہ شمالی یمن کے سربراہ چلے آ رہے تھے اور ۱۹۹۰ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد متحدہ ملک کے بھی سربراہ ہیں۔ یمن کے ۲ کروڑ ۴۰ لاکھ باشندے ملک کے طول و عرض میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد صحرائی اور جنگلی بستیوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یمن کے قدرتی وسائل محدود ہیں۔ قبائلی خود مختار اور مسلح ہیں اور غربت، ناخواندگی اور خوراک کی قلت جیسے مسائل برقرار رہتے ہیں۔ یمن کے بارے میں یہ بات ساری دنیا میں مشہور ہے کہ اس پر حکومت کرنا انتہائی دشوار ہے۔ اگر یمنی ریاست کا اقتدار بڑے شہروں، سڑکوں اور تیل والے علاقوں [مزید پڑھیے]