Abd Add
 

انسانی حقوق

چین بالادستی کا خواہاں نہیں!

August 16, 2005 // 0 Comments

جس تیزی سے چین کی اقتصادی اور فوجی قوت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے‘ اُس کے پیشِ نظر عالمی سیاست کے اسٹیج پر اس کے کردار میں توسیع پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ شمالی کوریا نے جب گذشتہ ہفتے یہ اشارہ دیا کہ وہ اس شش فریقی مذاکرات میں واپس آسکتا ہے جو اس کے جوہری پروگرام پر منعقد کیے جانے ہیں۔ پھر امریکی صدر جارج بش اور جنوبی کوریا کے صدر روہمو ہیون (Rohmoo-Hyun) کا واشنگٹن میں پیانگ یانگ کو اسے ایسا کرنے کی تاکید کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ شمالی کوریا ایسا کرنے کے لیے بغیر چین کے دبائو کے ہرگز تیار نہیں ہو سکتا ہے جو کہ شمالی کوریا و جنوبی کوریا کا بہت ہی اہم تجارتی شریک [مزید پڑھیے]

پاکستان میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

March 1, 2005 // 0 Comments

گزشتہ سال کے دوران اخبارات کے مطابق ملک بھر کے طول و عرض سے خودکشی کے ۲۵۰۷ واقعات درج ہوئے۔ خودکشی کے ان اعداد و شمار کے علاوہ ۱۶۳۴ افراد نے ملک کے مختلف علاقوں میں خودکشی کی کوشش کی‘ اس طرح ۴۱۴۱ افراد نے مجموعی طور پر خودکشی جیسا غیرانسانی اور مذہبی اقدار کے منافی عمل اختیار کرتے ہوئے انسانی جانیں ضائع کیں۔ پاکستان میں خودکشی آہستہ آہستہ مجموعی قومی صحت کا مسئلہ بنتی جارہی ہے کیونکہ ملک کے نوجوانوں میں معاشرتی و معاشی عوامل مثلاً غربت‘ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔ براعظم ایشیا اور بالخصوص جنوبی ایشیا میں معاشرتی تبدیلیوں‘ غیرمستحکم معاشی نظام‘ ڈپریشن یا ذہنی دبائو‘ منشیات کا استعمال اور کمزور خاندانی رویے خودکشی کے [مزید پڑھیے]

اسلامی جمہوریۂ ایران حقوقِ انسانی کے آئینے میں

February 16, 2005 // 0 Comments

آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترقی یافتہ دور میں چہاردانگ عالم میں حقوقِ انسانی کا چرچا ہے۔ مغربی اقوام جو بزعمِ خود انسانی ارتقا کی انتہائی منازل پر ہیں‘ انسانی حقوق کی بظاہر چمپئن اور علمبردار بنی ہوئی ہیں۔ وہ ہر ملک اور معاشرے کو اپنے بنائے ہوئے اسی پیمانے سے ماپتے ہیں۔ ان کے فلسفی اور دانشور ایک طرف سے تہذیبوں کے ٹکرائو (Clash of Civilizations) اور اختتامِ زمانہ (End of times) کی تھویریاں پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے حقوقِ بشر کے نام پر مداخلتوں سے دنیا کے باقی ممالک کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ وہ انہیں پسماندہ‘ غیرترقی یافتہ اور جہالت زدہ تصور کرتے ہیں اور اسی تناظر میں ہمہ وقت ان کے خلاف شور و غل اور [مزید پڑھیے]

اسرائیلی قید میں ۸۰ فیصد فلسطینی کم عمر ہیں!

February 16, 2005 // 0 Comments

بچے کسی بھی قوم اور ملک کا مستقبل ہوتے ہیں‘ یہی بچے آنے والے وقتوں میں اپنے ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔ عیسائیوں اور یہودیوں نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی کا منصوبہ بنایا اور فلسطینی بچوں کو موت کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جس میں اب تیزی آتی چلی جارہی ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ تحریکِ انتفاضہ کے ابتدائی ڈھائی سال کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ۲۳۰۰ سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جس میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ خود اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے بہت سے فلسطینی بچوں کی شہادت اس وقت واقع ہوئی جب مسلح اسرائیلی فوجیوں نے تصادم کے دوران فائرنگ [مزید پڑھیے]

1 2