Abd Add
 

تارکینِ وطن

جنگی جنون اور سمندر کے بیچ پھنسے مہاجرین

October 16, 2016 // 0 Comments

حوریہ کھانا بنانے میں مصروف تھی، جب اسمگلروں نے اسے بتایا کہ کشتی کا بندوبست ہو گیا ہے۔ ۲۰ سالہ اریٹیرین لڑکی جو صبح سے بھوکی تھی اور پاستہ بنانے میں مصروف تھی،اس نے پاستہ ادھورا چھوڑا اور جلدی جلدی اپنی ضروری اشیا جمع کیں۔یورپ جانے کی راہ تکتے گزشتہ پانچ ماہ اس نے لیبیا میں گزارے، اس دوران اس نے قید و بند کی صعوبتیں، جنسی پامالی اور تشدد برداشت کیا۔ اسے یاد تھا کہ جب وہ اٹلی جانے کے لیے گھر سے نکلی تو بہت خوش تھی اور اس خوشی میں وہ نوڈلز کھانا بھی بھول گئی تھی۔ پھر اس نے صبراتہ (لیبیا کی مغربی بندرگاہ) پر لکڑی کی بنی ایک کشتی دیکھی، جس میں افریقا اور مشرق وسطیٰ سے آئے سیکڑوں مہاجرین [مزید پڑھیے]

برطانوی اَئمہ

May 16, 2013 // 0 Comments

یہ بات خوش آئند ہے کہ برطانیہ میں انگریزی بولنے والے ائمہ کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہر جمعہ کو مشرقی لندن کے علاقے وائٹ چیپل کی مسجد میں چھ ہزار مرد و خواتین نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ان میں مختلف رنگ و نسل کے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن میں الجزائری، پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، مراکشی، صومالی اور جنوبی افریقی نمایاں ہیں۔ مسجد کے امام تین بار خطاب کرتے ہیں اور تینوں بار مختلف زبانوں میں حاضرین سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اب مسجد کی انتظامیہ نئے امام کی تلاش میں ہے۔ بنیادی شرائط یہ ہیں کہ برطانیہ میں پیدا ہوا ہو اور اچھی انگریزی بولتا ہو۔ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کے عشرے میں جو مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش سے آکر برطانیہ میں [مزید پڑھیے]

بشیر عبدالسلام الکبتی مراقب عام اخوان المسلمون، لیبیا کا انٹرویو

February 16, 2012 // 0 Comments

لیبیامیں اخوان المسلمون کے نئے مراقب عام بشیر عبدالسلام الکبتی ۳۳ سال امریکا میںرہے ہیں۔ ابتداً وہ تعلیم کی غرض سے امریکا گئے تھے۔ ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکا میںرہ کر ہی قذافی حکومت کی مخالفت شروع کر دی اور معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوتے ہی لیبیاواپس آگئے۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے ’’بن غازی‘‘ میںایک رفاہی تنظیم بنائی جو ’’ندائے خیر‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہ اس کے چیف ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ یہ تنظیم لیبیائی عوام کی مدد کے لیے رفاہی اور ریلیف کی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ قذافی حکومت کے سقوط سے پہلے ان کے دورۂ کویت کے دوران ہفت روزہ ’’المجتمع‘‘ کے نمائندے جمال الشرقاوی [مزید پڑھیے]