بھارت

بھارت میں ابتدائی تعلیم

July 16, 2017 // 0 Comments

بھارت میں ابتدائی تعلیم کا معیار ہر دور میں غیر تسلی بخش رہا ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی اس حوالے سے اس قدر مایوس تھے کہ جب کبھی ان کے سامنے ابتدائی تعلیم کا ڈھانچا اور معیار بہتر بنانے کی بات کی گئی وہ انتہائی مایوسی کے عالم میں یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ کم از کم سو سال میں تو بھارت اس قابل نہیں ہو پائے گا کہ ابتدائی تعلیم کا وہ معیار یقینی بنائے جو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ۱۹۳۱ء میں جب گاندھی کے سامنے بھارت کی ابتدائی تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے مختلف تجاویز رکھی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے لیے اس حوالے سے اپنی تمام زنجیریں توڑنا انتہائی دشوار ہے۔ اس [مزید پڑھیے]

بھارت کی جمہوریت ،انتہا پسندی کی جانب گامزن

July 16, 2017 // 0 Comments

صدر کی تقرری کے لیے بھارت کی بر سر اقتدار جماعت بی جے پی نے اپنے امیدوار کا انتخاب بہت سمجھ داری کے ساتھ کیا ہے: رام ناتھ کووند، جو کہ نا صرف پارٹی کے ایک ہندو اتحادی گروپ کا پرانا جانثارہے بلکہ دلت(ہندو معاشرے کی سب سے حقیر اور نچلی ذات ) بھی ہے۔رام ناتھ پارٹی کی مذہب پرست بنیاد اور دلت( جو بھارت کی آبادی کا۲۰ فیصد ہیں) دونوں کو متوجہ کرے گا۔پارلیمان میں بی جے پی اور ان کے اتحادیوں کی قوت دیکھ کر یہ بات تو واضح ہے کہ ان کی برتری یقینی ہے۔ اپنی حمایت میں اضافہ کے لیے بی جے پی ہمیشہ نئے راستے تلاش کرتی رہتی ہے مگر وہ سارے مثبت نہیں ہوتے۔ صحافی رانا ایوب، جو کہ [مزید پڑھیے]

چین کے خلاف چُنی جانے والی دیوار

June 16, 2017 // 0 Comments

چین کی ابھرتی ہوئی قوت اگر کسی سے نہیں دیکھی جارہی تو وہ بھارت ہے۔ اِدھر چین چاہتا ہے کہ ایشیا کو کسی نہ کسی طور ایک بھرپور بلاک کی شکل میں عالمی معیشت کے بڑے عنصر کے طور پر سامنے لائے اور دوسری طرف نئی دہلی کے پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ چین کی قوت میں اضافے کی رفتار روکی جائے۔ سوال چین کی ترقی روکنے کا ہے مگر اِس کے نتیجے میں خود بھارتی ترقی بھی متاثر ہوسکتی ہے مگر فی الحال اس کا خیال کسی کو نہیں۔ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا کے چند ممالک کے ساتھ مل کر چین کے خلاف اتحاد بنانے کی سمت پیش قدمی شروع کردی ہے۔ سنگا پور کے ساتھ حالیہ فوجی مشقیں اِسی سلسلے کی ایک [مزید پڑھیے]

کچھ نہ کرنے والی’’ لوک سبھا‘‘

February 1, 2017 // 0 Comments

نومبر کے آغاز میں بھارتی حکومت نے ملک میں زیر گردش رقم کا ۸۶ فیصد حصہ ناقابل استعمال قرار دے دیا،یہ ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ اس کے اثرات متاثر کن ہیں۔ کاروباری حضرات اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے میں ناکام رہے۔ بینک کے باہر شہریوں کی لمبی لمبی قطا ریں لگ گئیں تاکہ نئے نوٹ حاصل کیے جاسکیں، مگر نئے نوٹ کا اتنی جلدی چھپنا ممکن نہیں تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ سال کے آخر تک حل ہوجائے گا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس کے نتائج اور اثرات دوررس ہوں گے۔ بھارت کا تقریباً ہر فرد ہی اس موضوع پر بات کر رہا ہے ،لیکن بھارتی پارلیمان نے اس پر بحث کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ کسی بھی [مزید پڑھیے]

غریب ترین بچے، اعلیٰ ترین تعلیم

October 16, 2016 // 0 Comments

اسکول کا مقصد پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو بہترین تعلیم دینا ہے۔ بھارت کی ریاست اترپردیش میں ’’ودیاگیان لیڈرشپ اکیڈمی‘‘ غریب خاندان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا رہی ہے۔ اس بورڈنگ اسکول کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں ہر سال ۲۰۰ نشستوں کے لیے ڈھائی لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ یہ اسکول شِو نادر فاؤنڈیشن نے قائم کیا تھا، جو ایسی تعلیم مکمل طور پر مفت فراہم کرتا ہے جو عام طور پر صرف انتہائی امیر خاندان ہی برداشت کر سکتے ہیں۔ روشنی نادر ملہوترا فاؤنڈیشن کی ٹرسٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اسکول کا تصور بھارت کے ان نجی اسکولوں سے لیا گیا ہے، جن سے نکل [مزید پڑھیے]

’’نریندر مودی پھر متحرک‘‘

July 16, 2016 // 0 Comments

نریندر مودی بہت جاندار اور باصلاحیت فروش کار (Salesman) ہیں۔ گزشتہ کئی بیرونی دوروں میں اس بات کا اندازہ انہوں نے نہ صرف اپنے الفاظ سے بلکہ اپنے انداز سے بھی کرایا ہے۔ اپنی راحت انگیز مسکراہٹ، روایتی لباس اور گرم جوشی سے معانقہ کرتے ہو ئے وہ ایک بڑے ملک کے عاجزانہ تاثر کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اسی مہربان سے بھارت میں (جس کا تاثر مودی پیش کر رہے ہیں) ان کی راہنمائی میں بہت سی علاقائی طاقتیں جنم لے رہی ہیں۔ روایتی ہندوستانی سفارتکاری غیر اتحادی (یعنی کسی بھی اتحاد سے اجتناب) طرز کی ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ عالمی مسائل سے دور رہا جائے اور اپنی سرحدوں کے پاس کے [مزید پڑھیے]

1 2 3 4