Abd Add
 

بھارت

کچھ نہ کرنے والی’’ لوک سبھا‘‘

February 1, 2017 // 0 Comments

نومبر کے آغاز میں بھارتی حکومت نے ملک میں زیر گردش رقم کا ۸۶ فیصد حصہ ناقابل استعمال قرار دے دیا،یہ ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ اس کے اثرات متاثر کن ہیں۔ کاروباری حضرات اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے میں ناکام رہے۔ بینک کے باہر شہریوں کی لمبی لمبی قطا ریں لگ گئیں تاکہ نئے نوٹ حاصل کیے جاسکیں، مگر نئے نوٹ کا اتنی جلدی چھپنا ممکن نہیں تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ سال کے آخر تک حل ہوجائے گا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس کے نتائج اور اثرات دوررس ہوں گے۔ بھارت کا تقریباً ہر فرد ہی اس موضوع پر بات کر رہا ہے ،لیکن بھارتی پارلیمان نے اس پر بحث کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ کسی بھی [مزید پڑھیے]

غریب ترین بچے، اعلیٰ ترین تعلیم

October 16, 2016 // 0 Comments

اسکول کا مقصد پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو بہترین تعلیم دینا ہے۔ بھارت کی ریاست اترپردیش میں ’’ودیاگیان لیڈرشپ اکیڈمی‘‘ غریب خاندان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا رہی ہے۔ اس بورڈنگ اسکول کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں ہر سال ۲۰۰ نشستوں کے لیے ڈھائی لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ یہ اسکول شِو نادر فاؤنڈیشن نے قائم کیا تھا، جو ایسی تعلیم مکمل طور پر مفت فراہم کرتا ہے جو عام طور پر صرف انتہائی امیر خاندان ہی برداشت کر سکتے ہیں۔ روشنی نادر ملہوترا فاؤنڈیشن کی ٹرسٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اسکول کا تصور بھارت کے ان نجی اسکولوں سے لیا گیا ہے، جن سے نکل [مزید پڑھیے]

’’نریندر مودی پھر متحرک‘‘

July 16, 2016 // 0 Comments

نریندر مودی بہت جاندار اور باصلاحیت فروش کار (Salesman) ہیں۔ گزشتہ کئی بیرونی دوروں میں اس بات کا اندازہ انہوں نے نہ صرف اپنے الفاظ سے بلکہ اپنے انداز سے بھی کرایا ہے۔ اپنی راحت انگیز مسکراہٹ، روایتی لباس اور گرم جوشی سے معانقہ کرتے ہو ئے وہ ایک بڑے ملک کے عاجزانہ تاثر کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اسی مہربان سے بھارت میں (جس کا تاثر مودی پیش کر رہے ہیں) ان کی راہنمائی میں بہت سی علاقائی طاقتیں جنم لے رہی ہیں۔ روایتی ہندوستانی سفارتکاری غیر اتحادی (یعنی کسی بھی اتحاد سے اجتناب) طرز کی ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ عالمی مسائل سے دور رہا جائے اور اپنی سرحدوں کے پاس کے [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 7