بھارتی مسلمان

سانحہ الٰہ آباد

March 16, 2007 // 0 Comments

الٰہ آباد میں طالبات کے مدرسہ جامعۃ الصالحات (کریلی) میں ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء کی شب طالبات کے ہاسٹل میں جو قیامت ٹوٹی اس نے ملک کے سیکوریٹی نظام اور شہریوں،حقوق بالخصوص مسلمانوں و اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ جن چھ افراد نے نوخیز طالبات کے ہاسٹل پر حملہ کیا وہ عام قسم کے بدمعاش تھے۔ مسلم سماج کے خلاف یہ ایک منظم سازش تھی اور اس گھنائو نے جرم میں وہ سفید پوش لوگ ملوث تھے جو ہندوستان کی ثقافتی اصطلاح میں ’’ان داتا‘‘ کہے جاتے ہیں۔ اس جرم کے مرتکب چھ افراد پولیس (CID) کے بھیس میں تھے اورکہا جا تا ہے کہ وہ ’’روٹین چیکنگ‘‘ کے نام پر وہاں جاتے رہے ہیں۔ یہ سوال [مزید پڑھیے]

بھارت میں مسلمانوں کی حالتِ زار

December 16, 2006 // 0 Comments

ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں مسلمانوں کی آبادی ۶ء۱۰ فیصد جبکہ جیلوں میں اُن کی تعداد ۴ء۳۲ فیصد ہے۔ گجرات میں آبادی ۰۶ء۹ فیصد اور جیلوں میں اُن کی تعداد ۲۵ فیصد ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی ۹ء۳۰ فیصد اور جیلوں میں اُن کی تعداد ۱ء۲۸ فیصد ہے۔