Abd Add
 

ایران

ایران مسائل کی جَڑ، یا اُن کا حل!!

June 1, 2018 // 0 Comments

پچھلے دس سال سے جاری خانہ جنگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی تغیرات نے خطے میں جنگ عظیم اول سے قائم سیاسی نظام کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔جیسے جیسے آمرانہ نظام اپنے انجام کو پہنچے تو ان کے ساتھ ہی قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے اور ان ممالک کی عالمی سرحدیں بھی متاثر ہوئیں۔ شام اور یمن خونی خانہ جنگی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس خانہ جنگی کو غیر ملکی فوجی مداخلتوں نے مزید سلگایا ہے۔دوسری طرف امریکا اور اس کی اتحادی فوج کے آپریشن سے قبل ایک دہشت گرد تنظیم داعش، عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر چکی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ ،واشنگٹن اور خطے کے دیگر ممالک کے سرکاری حکام [مزید پڑھیے]

ایران کے توسیع پسندانہ عزائم اور اسرائیل

October 1, 2017 // 0 Comments

ستمبر کے آغاز میں مغربی شام کے قصبے مسیاف پر میزائل حملہ کیا گیا، شام میں سرگرم حکومتوں یا عسکری تنظیموں میں سے کسی نے بھی اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ کیونکہ حملے کا ہدف شامی حکومت اور حزب اللہ تھی۔ یہ کافی تھا اس بات کا یقین کرنے کے لیے کہ حملہ اسرائیل کی جانب سے کیاگیا ہے۔ یہودی ریاست طویل عرصے سے شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہی ہے، لیکن اس میں زیادہ تر حملے دمشق کے اطراف میں یا شام لبنان سرحد پر کیے گئے۔ اس بار حملہ کا ہدف اسرائیلی سرحد سے ۳۰۰ کلومیٹر دور اور روسی اینٹی ایئر میزائل بیس کے قریب تھا۔ اس حملے [مزید پڑھیے]

ایران کے صدارتی انتخابات کے چھ امیدوار

May 1, 2017 // 0 Comments

شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔یہ ادارہ امیدواروں کی اسلامی نظام کے ساتھ وفاداری جانچتا ہے۔اس بار صدر کے عہدے کے لیے ۱۶۳۶؍امیدواروں نے درخواست دی تھی۔ ۱۔حسن روحانی: صدر روحانی دوسری مرتبہ اس عہدے کے امیدوار ہیں۔ اپنا اندراج کرواتے ہوئے انھوں نے اپنی حکومت کے کئی ایک ’’مثبت اقدامات‘‘ کاذکر کیا۔اور تمام ایرانی مردوزن پر زور دیا کہ وہ ایک بار پھر ’’اسلام اور ایران‘‘کے لیے ووٹ دیں۔ ۲۔ابراہیم رئیسی: روحانی کے سب سے بڑے مشہور حریف چھپن سالہ عالم ابراہیم رئیسی ہیں،جو قائد انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے ایک قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔اور انھیں ان کا جانشین تصور کیا جاتا ہے۔رئیسی ’’قتل عام‘‘کے جج کے طور پر جانے جاتے ہیں۔وہ ۱۹۸۸ ء [مزید پڑھیے]

1 2 3