Abd Add
 

اسلام پسند

مراکش: انتخابات کے راستے سیاسی تبدیلی

October 16, 2016 // 0 Comments

مغربی ذرائع ابلاغ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق شمالی افریقا کے ایک اہم ملک مراکش میں ۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو جو پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے، اس میں حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) کو ایک بار پھر کامیابی ملی ہے۔ دستوری اصلاحات کے بعد ۲۰۱۱ء میں ہوئے پہلے پارلیمانی انتخابات کی طرح اس بار بھی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، حالانکہ اس بار اسے پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں، تاہم وہ تنہا حکومت بنانے کی حالت میں نہیں۔ لہٰذا اسے اس مرتبہ بھی مخلوط حکومت ہی بنانی پڑے گی۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ مراکش کا موجودہ سیاسی نظام اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ [مزید پڑھیے]

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

ترکی کی تقلید آسان نہیں!

September 1, 2011 // 0 Comments

بہت سے معاملات میں محسوس ہوتا ہے کہ ترکی کے اسلام پسند عناصر اپنی بات منوانے اور سب کچھ درست کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فوج کی مشاورت سے تقویت پانے والے سیکولر ازم کے سائے سے الگ ہوکر ابھرنے میں انہیں خاصا وقت لگا۔ استنبول کی کامرس یونیورسٹی کے جواں سال پروفیسر باقر بیرت اوزیپیک کو مصر میں عوامی انقلاب کی لہر نے بہت متاثر کیا ہے۔ انہوں نے دو ساتھیوں کے ساتھ حال ہی میں قاہرہ یونیورسٹی کے تحت منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ان کے خیالات کا خیر مقدم کیا گیا۔ ایک رات وہ قاہرہ کے مشہور زمانہ تحریر اسکوائر گئے اور وہاں انہوں نے دیکھا کہ نوجوان ٹریفک کنٹرول کر رہے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

ترکی: سر کے اسکارف نے پھر سر اٹھا لیا

December 1, 2010 // 0 Comments

جرمن صدر کرسچین ولف نے حال ہی میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ترکی کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ جرمن مہمانوں کا سرکاری سطح پر استقبال کرنے والوں میں ترک خاتون اول حیرالنساء بھی شامل تھیں۔ انہوں نے گارڈ آف آنر پیش کرنے والوں سے سلامی بھی لی اور سرخ قالین پر مہمانوں کی ہم رکاب بھی ہوئیں۔ آپ سوچیں گے اس میں غیرمعمولی بات کیا ہے۔ ۲۰۰۷ء میں جرنیلوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ عبداللہ گل کو صدر بننے سے روکنے کے لیے مداخلت کریں گے کیونکہ ان کی اہلیہ سر پر اسکارف رکھتی ہیں۔ تب سے ترک خاتون اول ایسی تقاریب میں شرکت سے گریز کرتی آئی ہیں جن میں جرنیل شریک ہوں۔ ترکی میں سر کا اسکارف آج بھی اسلام پسند اور [مزید پڑھیے]

مسلمانوں کو عالمگیر تباہی سے دوچار کرنے کی سازش

May 16, 2005 // 0 Comments

امینہ ودود پر تنقید سن کر اور ۱۸ مارچ کو کمپنی کی طرف سے کیے گئے اقدام پر بعض مسلمانوں کا تبصرہ ہے کہ ’’بلاوجہ اس گمراہ کن عورت کے اقدامات پر اتنی توجہ کیوں دی جارہی ہے۔ یہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ جس پر اتنی توجہ دی جائے۔ اس طرح تو اسے مزید مشہور کرنا ہے اور بھی بہت سارے گراں قدر مسائل ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے اور جو حقیقتاً فوری توجہ کے مستحق بھی ہیں‘‘۔ بہرحال یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا کہ یہ لوگ تصور کیے بیٹھے ہیں۔ ان اقدامات کے نتائج جو بزعم خویش ترقی پسند مسلمانوں کی طرف سے کیے جارہے ہیں‘ سے زیادہ سنگین ہیں۔ امینہ ودود کے واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے کا مطالبہ مسلمانوں [مزید پڑھیے]

1 2