جماعتِ اسلامی بنگلا دیش

یاسر قاضی کا میر قاسم علی کی پھانسی پر گہرے دکھ کا اظہار

September 16, 2016 // 0 Comments

بنگلا دیشی حکومت کی جانب سے میر قاسم علی کو پھانسی دینے کی خبر سن کر دلی دکھ ہوا۔نہ صرف بنگلا دیش کے لوگ بلکہ بنگلا دیش سے باہر رہنے والے بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم ،حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نام نہاد ’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ اور’’جنگی جرائم ‘‘جیسی جذباتی معاملات کو استعمال کر رہی ہے۔ نہ صرف عالمی تنظیموں نے بلکہ اقوام متحدہ نے بھی نام نہاد عدالتی ٹرائل پر حکومت سے احتجاج کیا ،ان مقدمات کی سماعت کے دوران نہ تو عالمی قوانین کی پاسداری کی جا رہی ہے اور نہ ہی صحیح عدالتی طریقہ کار کو اپنایا جا رہا ہے۔مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ بنگالی ۱۹۷۱ء میں ہونے والے واقعات [مزید پڑھیے]

مولانا مطیع الرحمن نظامی شہید سے اہلِ خانہ کی آخری ملاقات

June 1, 2016 // 1 Comment

بنگلادیش کی پارلیمنٹ کے سابق رکن، سابق مرکزی وزیر زراعت، بندرگاہ اور صنعت، بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر، مولانا مطیع الر حمن نظامی کو شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ کی سیکولر حکومت نے ۱۰مئی ۲۰۱۶ء کو پھانسی دے دی۔ شہید کے گھر والوں سے الوداعی ملاقات کی تفصیل ملاحظہ کیجیے۔ یہ ملاقات ڈھاکا سینٹرل جیل میں ۱۰مئی کو آٹھ بجے شب کروائی گئی۔ یہ تحریر مولانا کے تیسرے بیٹے ڈاکٹر نعیم الرحمن کی ہے، جو خود اس ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات کے کچھ ہی دیر بعدمولانا کو پھانسی دے دی گئی۔ (ادارہ)[مزید پڑھیے]

ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی کا حسینہ واجد کے نام خط

May 16, 2016 // 1 Comment

عوامی جمہوریہ بنگلادیش کی وزیر اعظم محترمہ شیخ حسینہ واجد (اللہ آپ کی حفاظت کرے) السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و بعد! بنگلادیش کی تنظیم جماعت اسلامی کے بہت سے علماء کی گرفتاریوں اور پھانسیوں کے احوال جان کر ہمیں بڑا دکھ ہوا اور ان لوگوں کے احوا ل جان کر بھی افسوس ہوا کہ جن میں سابق وزراء اور بنگلادیش کے پارلیمانی اراکین بھی شامل ہیں، نیز ان عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد دیکھ کر بھی تکلیف ہوئی کہ جو ان افراد کے اوپر لگائے گئے محض ان الزامات کی بنیاد پر صادر کیے گئے جن کا دورانیہ چالیس سال سے زائد کا عرصہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ مشرق ومغرب کے تمام مسلمانوں نے مُلّا عبدالقادر، شیخ قمر زمان، شیخ علی [مزید پڑھیے]

عبدالقادر مُلّا شہید کا آخری خط

February 16, 2016 // 0 Comments

جماعت اسلامی بنگلا دیش کے رہنما عبدالقادر مُلّا کو ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۳ء کو ۱۹۷۱ء کی جنگ میں نظریہ پاکستان کی حمایت پر سزائے موت دی گئی۔ عبدالقادر مُلا نے تختہ دار پر جانے سے قبل اپنی اہلیہ کے نام ایک مفصل خط لکھا تھا، جو درج ذیل ہے: پیاری رفیق حیات السلام علیکم! میری پھانسی کا مکمل فیصلہ لکھا جا چُکا ہے۔ قوی امکان ہے کہ کاغذ کا وہ ٹکڑا کل رات یا اس کے بعد جیل کے دروازے تک پہنچ جائے۔ جس کے بعد اصولاً مجھے کال کوٹھری میں منتقل کردیا جائے گا۔ شاید یہ حکومت کا آخری عمل ہے، اس لیے وہ اس غیر منصفانہ عمل کو بہت تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ میرا خیال ہے کہ وہ نظر ثانی کی [مزید پڑھیے]

علی احسن مجاہد کا سزائے موت سننے پر ردِعمل

July 1, 2015 // 0 Comments

ایک شخص کب، کیسے اور کہاں مرے گا، اس کا فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ اور کسی کے پاس اللہ کے فیصلے میں رد و بدل کا اختیار یا طاقت نہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے دی جانے والی سزائے موت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور مجھے سپریم کورٹ کی جانب سے یہ سزا برقرار رکھنے کے فیصلے کی بھی کوئی پروا نہیں۔[مزید پڑھیے]

محمد قمرالزماں شہید، ایک تعارف

April 16, 2015 // 0 Comments

محمد قمرالزماں اپنے ہم عصروں میں ایک صاف گو انسان اور بہترین رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ایک ایسے انسان جو مصائب کا سامنا بھی ہمیشہ پُرسکون انداز میں کرتے تھے۔ ایک واضح اور مضبوط رائے اور شخصیت کے حامل اور غور و فکر میں مشغول رہنے والے محمد قمر الزماں اپنی شہادت تک جماعت اسلامی بنگلا دیش کے سینئر اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل تھے۔ ابتدائی زندگی اور تعلیم محمد قمر الزماں ۴ جولائی ۱۹۵۲ء کو ضلع شیرپور، بجیت کھالی یونین کے مودی پاڑا گائوں کے ایک معروف مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے آبائی گائوں میں واقع کامری کالی تولہ گورنمنٹ پرائمری اسکول سے کیا۔ انہیں اپنے اسکول میں ہمیشہ اوّل آنے کا اعزاز حاصل رہا۔ آٹھویں [مزید پڑھیے]

1 2