Abd Add
 

جاپان

جاپان امداد لینے کے بجائے تعمیر نو میں مصروف

May 1, 2011 // 0 Comments

کوجی باگا اس سونامی کے قریب نہیں تھا، جس نے گیارہ مارچ کو جاپان میںتباہی و بربادی پھیلادی تھی، بلکہ وہ اس سونامی کے اوپر تھا۔ وہ اپنی مچھلی پکڑنے کی کشتی میں کپتانی کررہا تھا کہ سونامی کی لہروں نے اس کی کشتی کو منجدھار میں ڈال دیا۔ اس کی کشتی لہروں کے زبردست اتار چڑھائو میں ڈولتی رہی۔ سونامی کی شدت سے پیدا ہونے والی طاقتور سمندری لہروں نے ساحل سمندر پر حملہ کر کے کوجی باگا کے آبائی ساحلی علاقے کو اتھل پتھل کر کے تباہ شدہ چیزوں کا ایک قبرستان بنا دیا۔ جاپان کے شمالی حصے میں تقریباً دس ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ میں، کوجی باگا سے سونامی کے ۲۴ گھنٹے بعد اس کی واپسی پر عین اس [مزید پڑھیے]

جاپان کے معمر افراد میں چوری کی عادت

February 16, 2011 // 0 Comments

جاپان میں معمر افراد کی تعداد آبادی کے تناسب سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ گزشتہ سال ۶۵ سال یا اس سے زائد عمر کے ۲۷ ہزار ۳۶۲ افراد پر دکانوں سے چیزیں چرانے کا الزام عائد کیا گیا جو ایک ریکارڈ ہے۔ یہ جاپان میں ایک سال کے دوران دکانوں سے چیزیں چرانے والوں کا ۱ء۲۶ فیصد ہے۔ معمر افراد میں چوری کی پنپتی ہوئی عادت سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جاپان میں معمر افراد اپنے خاندان سے کٹتے جارہے ہیں یا ان کے آمدنی کے ذرائع محدود ہوگئے ہیں۔ ۷۰ فیصد معمر چوروں نے کہا کہ وہ کسی نہ کسی طرح کچھ حاصل کرکے استعمال کرنا یا کھانا چاہتے تھے جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ وہ افلاس [مزید پڑھیے]

جاپان: تشویشناک شرح پیدائش

February 16, 2006 // 0 Comments

جاپان میں بچوں کی شرح پیدائش اگر ۲۹ء۱ فیصد کے حساب سے برقرار رہی تو ۳۳۰۰ء میں یہ قوم ختم ہو جائے گی۔ (بحوالہ: امریکی ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘ میگزین۔ ۱۶ جنوری ۲۰۰۶ء)

پانی کی قلت۔۔۔ ایک عالمی مسئلہ

November 16, 2005 // 0 Comments

دریائی علم کے ماہر Yutaka Takahasi جاپان کے River Engineering کے ایک بڑے ماہر ہیں۔ یہ ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۶ء UNESCO کے International Hydrological Programme (IHP) میں جاپان کے نمائندہ رہے ہیں اور ۱۹۹۶ء تا ۲۰۰۳ء World Water Council کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی رہے ہیں۔ “Asia Pacific” مئی ۲۰۰۵ء کے شمارے میں ان کا انٹرویو شائع ہوا ہے‘ جس کا ترجمہ یہاں دیا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے ہے کہ کوئی بھی کرۂ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نہیں مررہا مگریہ محض پانی ہے جس کی وجہ سے کافی زیادہ اموات واقع ہوچکی ہیں۔ پانی اب ترجیحی عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ قلتِ آب اور آلودگی اب دنیا بھر میں ۴۰ لاکھ سالانہ اموات کا سبب ہے‘ یعنی ہر آٹھویں سیکنڈ [مزید پڑھیے]

1 2