Abd Add
 

یروشلم

صرف اقدامات ہی موثر ہیں!

June 16, 2005 // 0 Comments

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی ٹائم کے یروشلم بیورو چیف Matt Rees اور ورلڈ ایڈیٹر Romesh Ratnesar سے ملاقات ہوئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں انخلاء کے منصوبے کی منظوری کے بعد شیرون کا کسی میگزین کے ساتھ پہلا انٹرویو ہے‘ جس کا اقتباس درج ذیل ہے: ٹائم: یہ بہت ہی خوبصورت گھر ہے۔ شیرون: میری رہائش کا یہاں پانچواں سال ہے۔ ٹائم: ابھی کتنے سال اور آپ یہاں رہیں گے؟ شیرون: مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کر رہا ہوں۔ ٹائم: اگر آپ ماضی کے اس مقام پر جا کر سوچیں جبکہ آپ ایک نوجوان فوجی افسر تھے تو ۲۰۰۵ء کا اسرائیل آپ کے خیال میں کس طرح کا ہونا چاہیے؟ شیرون: میں نے اس وقت یہی سوچا تھا کہ [مزید پڑھیے]

نئے یہودیوں کو اسرائیل میں بسانے کا منصوبہ

November 16, 2004 // 0 Comments

کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو کے نام نہاد ’’امن معاہدوں‘‘ پر بغلیں بجانے والے اور اسے ’’آزاد فلسطینی ریاست‘‘ کے قیام کا پہلا زینہ قرار دینے والے بھلے ہی اپنی زبان سے اعتراف نہ کریں لیکن قیامِ انصاف کے بغیر قیامِ امن کی نام نہاد کوششوں کے ڈرامے کا حشر وہ بھی بچشمِ سر دیکھ رہے ہیں۔ چشمِ بصیرت سے تو وہ محروم ہیں ورنہ کیمپ ڈیوڈ کے وقت ہی انہیں وہ سب نظر آجاتا جو آج ربع صدی بعد نظر آرہا ہے۔ یروشلیم اعلانیہ اکتوبر ۲۰۰۳ء نے ثابت کر دیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کبھی اسرائیل کے ایجنڈے پر تھی ہی نہیں۔ صیہونیت نے اتنے پاپڑ اس لیے تھوڑی بیلے تھے کہ دو ہزار سال کی دربدری کے بعد جس زمین پر انہیں بالجبر [مزید پڑھیے]