Abd Add
 

جماعتِ اسلامی

امت مسلمہ، بدلتے حالات، درپیش چیلنج اور دستیاب مواقع

January 16, 2015 // 0 Comments

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا، بدقسمتی سے بانیٔ پاکستان کے انتقال کے باعث یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ یوں پاکستان جاگیرداروں، سول اور فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ جماعت اسلامی کو پُرامن جمہوری جماعت ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر پھلنے پھولنے نہیں دیا گیا، پابندیاں لگائی گئیں، مولانا مودودیؒ کو جیل میں ڈالا گیا اور غیرمسلم لابی کو خوش کرنے کے لیے انہیں پھانسی کی سزا تک سنائی گئی

سیاسی اسلام

January 16, 2014 // 0 Comments

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، جو سیاسی اسلام کو جنم دینے والے دو تین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، اگر آج زندہ ہوتے تو اسلامی دنیا کا سفر کرتے ہوئے انہیں چند معمولی سے خوشگوار اور بہت سے انتہائی ناخوشگوار تجربات کا سامنا ہوتا۔ ان کے انتقال کے بعد آج پاکستان (بالخصوص افغانستان سے ملحق علاقوں میں) اُن کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی ایک مٔوثر اور منظم سیاسی قوت ہے۔

بنگلا دیش میں جماعتِ اسلامی کا مستقبل

August 16, 2013 // 0 Comments

بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کے فیصلے جاری ہیں۔ مزید رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ شدید مشکلات اور تنازعات سے گھری ہوئی ملکی عدالت ’’انٹر نیشنل وار کرائمز ٹریبونل‘‘ نے جماعتِ اسلامی کے مزید دو سرکردہ رہنماؤں کو ۱۹۷۱ء میں سابق مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی اور بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کی تحریک کے دوران نام نہاد جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائیں سنائی ہیں۔ پانچ کو پہلے ہی جیل بھیجا جاچکا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ پھانسی کے لیے تیار رہیں۔ بہت سے دوسرے رہنماؤں کے مقدمات بھی فیصل ہونے کی منزل میں ہیں۔ جماعتِ اسلامی پر اب تک پابندی عائد نہیں کی گئی ہے تاہم یہ بھی ایک [مزید پڑھیے]

بنگلا دیش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات

April 16, 2011 // 0 Comments

بنگلہ دیش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں عوامی لیگ اور حکمران اتحاد کے حامیوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس الیکشن کی اہمیت تو ویسے بھی مسلّم ہے۔ لیکن جب الیکشن جیتنے کے لیے حکمران پارٹی نے اپنا پورا زور لگایا تو اس سے یہ الیکشن پوری قوم کی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔ ۳۰، ۳۱ مارچ ۲۰۱۱ء کو کُل ۱۴ نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے۔ یکم اپریل صبح پونے چار بجے نتائج کا اعلان ہوا۔ بی این پی کی قیادت میں اپوزیشن کے چار جماعتی اتحاد کے حامی پینل نے صدر اور سیکریٹری سمیت ۱۱ نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔ ۳۱ مارچ کی رات کو گنتی شروع ہوئی تو حکمران پارٹی کی ناکامی سامنے آنا شروع ہوئی۔ رات ۱۲ [مزید پڑھیے]

1 2