Abd Add
 

مسئلہ کشمیر

مسلم قائدین کی دو روزہ عالمی کانفرنس

October 1, 2013 // 0 Comments

لاہور میں ۲۵ ،۲۶ ستمبر ۲۰۱۳ء کو اسلامی تحریکوں کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اُمت مسلمہ اور انسانیت کو درپیش سنگین بحرانوں کا جائزہ لینے، ان کے بارے میں ایک متفق علیہ مؤقف اور اُمت مسلمہ کے لیے عملی نقشۂ کار تجویز کرنے کے لیے کانفرنس میں ۲۰ ممالک کے چالیس سے زائد رہنمائوں نے شرکت کی۔ مراکش سے ملائیشیا تک اسلامی تحاریک کے ان اہم سیاسی اور فکری رہنمائوں کی پاکستان آمد بحیثیت قوم ہمارے لیے باعث اعزاز ہے۔ یہ رہنما افراد نہیں، کروڑوں انسانوں کے نمائندہ اور ترجمان ہیں۔ کئی ممالک کے عوام نے متعدد بار ان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیاہے، اور اللہ کی توفیق سے ان سب رہنمائوں اور ان کی تحریکات کادامن ہر طرح کی لوٹ مار اور [مزید پڑھیے]

پاک بھارت رابطے۔۔۔ محتاط رہنے کی ضرورت ہے!

June 1, 2010 // 0 Comments

پاکستان اور بھارت ایک بار پھر تعلقات بہتر بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ رابطوں کا آغاز ہو چکا ہے اور الزامات کے تبادلے کے ساتھ وفود کے تبادلے بھی ہو رہے ہیں۔ معاملات درست کرنے کے لیے دونوں ممالک نے پہلے بھی کئی بار مذاکرات کیے ہیں مگر بات بنی نہیں۔ کشمیر کا مسئلہ تو خیر حل ہو کر ہی نہیں دیا، اب دریائی پانی کی تقسیم کا معاملہ بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے الزامات کی گرد بھی بیٹھنے کا نام نہیں لے رہی۔ مذاکرات کے لیے رابطوں کا آغاز خوش آئند ہے تاہم اس معاملے میں دونوں کو محتاط رہنا پڑے گا۔ ابھی سے بہت سی توقعات وابستہ کر لینا خطرناک ثابت ہو گا۔ ماضی میں توقعات کا [مزید پڑھیے]

’’بھارتی تسلط سے آزادی کا یقین دلاتا ہوں!‘‘

February 16, 2010 // 0 Comments

سید علی گیلانی اپنی ذات میں خود ایک تحریک ہیں۔ بھارتی ظلم و ستم کے سامنے عظمت و استقامت کے اس پہاڑ کی زندگی کا بیشتر حصہ جیل میں گزرا۔ اپنے مقصد سے سچے لگائو اور اس کے لیے مثالی جدوجہد کے اعتراف میں بھارتی فوج نے انہیں ’’ضمیر کا قیدی‘‘ کا خطاب دیا۔ سید علی گیلانی ۲۹ ستمبر ۱۹۲۹ء کو زورمنگ‘ بانڈی پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور میں حاصل کی‘ گریجویشن اورینٹل کالج لاہور سے کی۔ لاہور کی گلیوں سے ان کو آج بھی خصوصی لگائو ہے۔ ان کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ آپ مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی ہیں۔ آپ کی ۳۰ سے زائد تصانیف ہیں‘ آپ آج کل کُل [مزید پڑھیے]

حقِ خود ارادی کے بغیر مسئلۂ کشمیر حل نہیں ہو سکتا!

July 16, 2005 // 0 Comments

جناب وید بھسین جموں سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ ’’کشمیر ٹائمز‘‘ کے چیف ایڈیٹر اور ممتاز دانشور ہیں۔ وہ گذشتہ پچاس سال سے صحافت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو اخبار ’’نیا سماج‘‘ کے نام سے ۱۹۵۲ء میں نکالا تھا لیکن ۱۹۵۴ء میں بھارتی حکومت نے شیخ محمد عبداﷲ کی حمایت کرنے پر اس اخبار کو بند کر دیا۔ وید بھسین اخبار کی بندش کے بعد نئی دہلی چلے گئے‘ جہاں سے انہوں نے کشمیر ٹائمز کے نام سے ایک ہندی اخبار کا اجرا کیا لیکن ریاست جموں و کشمیر میں اس اخبار کی سرکولیشن ایک مسئلہ بن گئی۔ چنانچہ اس اخبار کو بھی بند کرنا پڑا بعد ازاں بھسین صاحب نے ۱۹۵۵ء میں جموں سے انگریزی روزنامہ ’’کشمیر ٹائمز‘‘ کا اجرا [مزید پڑھیے]