Abd Add
 

کشمیر

کشمیر: ملائیشیا ، بھارت میں بڑھتی کشیدگی

October 16, 2019 // 0 Comments

بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور آرٹیکل ۳۷۰ پر ملائیشیا کی جانب سے پاکستان کی حمایت کے بعد بھارت اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے اور دونوں ہی ملک ایک دوسرے کو تجارتی محاذ پر سزا دینے کی کوشش میں ہیں۔ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان، ترکی اور چین کی طرح مسئلہ کشمیر کو اٹھاتے ہوئے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے جب بھارت کو نشانہ بنایا تو بھارت کے لیے یہ کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا۔ مہاتیر محمد نے الزام لگایا تھا کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے۔ ملائیشیا اور بھارت کے تعلقات اچھے ہوا کرتے تھے لیکن کشمیر کے مسئلے پر مہاتیر محمد کا پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا [مزید پڑھیے]

مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال

June 16, 2017 // 0 Comments

اسے بہت بری طرح پیٹا گیا تھا اور وہ شدید زخمی حالت میں پڑا تھا، فاروق ڈار کوفوجی جیب کے بمپر کے ساتھ باندھ کر جیپ کومقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سرینگر میں گھمایا گیا۔ بھارتی فوج نے اس پر یہ الزام لگایا کے وہ بھارتی فوجیوں پر پتھر پھینکتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتاہے۔ ۹؍اپریل کو فاروق ڈار کی یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر پھیل گئی اس ویڈیو کے پھیلتے ہی سرینگر میں غم و غصہ کی لہر دوڑگئی۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت انتخابات ہورہے ہیں اور ان انتخابات کو پُرامن رکھنے کے لیے بھا رتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے، انتہائی شرمناک بات تو یہ ہے کہ وادی میں رہنے والے شہریوں میں سے صرف سات [مزید پڑھیے]

ملکوں کے مابین معاہدانہ تعلقات اور عسکری اقدام

March 16, 2014 // 0 Comments

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جہادِ کشمیر کے حوالے سے ایک اہم سوال پیدا ہوا تھا۔ اس وقت ممتاز دینی اسکالر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ایک خاص مؤقف تھا، جس پر بعض حلقوں نے خاصا شور مچایا۔ ان پر شدید تنقید کی گئی۔ مگر وہ اپنے علمی مؤقف پر اپنے دلائل کے ساتھ قائم رہے۔ اسی بحث کے تناظر میں ۱۷؍اگست ۱۹۴۸ء کو مولانا مودودی نے سہ روزہ ’’کوثر‘‘ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا، جس میں اس موقف کو پوری صراحت اور وضاحت سے بیان کیا۔ ہم اس تاریخی انٹرویو کو قارئین کے لیے دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔ آج کل بھی ہمارے ہاں اِسی طرح کی بحث جاری ہے۔ اِن علمی نکات سے معاملے کی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے۔

1 2