Abd Add
 

لبرل اِزم

حکمرانی بذریعہ ’’سیاسی اسلام‘‘

September 16, 2017 // 0 Comments

کسی زمانے میں اخوان المسلمون کو اسلامی دنیا کی ایک انتہائی متحرک اور نتیجہ خیز تحریک کا درجہ حاصل تھا، مگر اب اس کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ایک رکن نے حال ہی میں اپنے ساتھیوں اور مجموعی طور پر تحریک کی حالت بیان کرنے کے لیے ’’مردہ، مرتے ہوئے یا زیر حراست‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ جنوری ۲۰۱۱ء میں عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر دوڑی، جس کے بعد اخوان نے مصر میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ۲۰۱۲ء میں وہ حکمران جماعت بن گئی۔ مگر جنرل عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں فوج نے، عوام کے بھرپور تعاون سے، اخوان کو اقتدار سے نکال پھینکا۔ چار سال بعد اب جنرل السیسی مصر کے صدر ہیں اور انہوں نے اخوان کو ربع [مزید پڑھیے]

گڑھے کو تکتے رہیے۔۔۔

February 1, 2011 // 0 Comments

پاکستان میں لبرل ازم کے لیے پنپنے کی گنجائش ویسے ہی کم ہے اور ایسے میں پنجاب کے گورنر اور ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے ایک کٹر مخالف سلمان تاثیر کا قتل لبرل عناصر کے لیے مشکلات میں اضافے کا نقیب ہے۔ لبرل سوچ رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بھی یہ قتل پریشان کن ہے۔ ۲؍ جنوری کو حکومت کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوئیں جب متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت کو دی جانے والی حمایت واپس لے لی۔ سلمان تاثیر کے قتل نے تین سال قبل رونما ہونے والے بے نظیر بھٹو کے قتل کی یاد بھی تازہ کردی۔ پاکستان شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ اسلامی شدت پسندی عروج پر ہے۔ ایسے میں اگر حکومت کمزور ہو تو ان دونوں [مزید پڑھیے]