Abd Add
 

لیبیا

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

لیبیا میں اخوان کے مضبوط ہوتے قدم

February 16, 2013 // 0 Comments

ایک لیبیائی افسر بڑے فخر سے موبائل فون پر اپنی تِڑواں بیٹیوں کی تصویر دکھاتا ہے۔ تینوں کے چہرے پر بہت باریک سا، جھلی نما کپڑا پڑا ہوا ہے۔ یہ افسر اخوان المسلمون سے وابستگی رکھنے والی جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ اخوان المسلمون نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں دو سال قبل اٹھنے والی عوامی بیداری کی لہر سے بہت کچھ پایا ہے، مگر لیبیا میں اس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ گزشتہ جولائی میں منعقدہ انتخابات میں اخوان المسلمون سے وابستہ پارٹی بمشکل بیس فیصد نشستیں حاصل کرسکی۔ تیونس اور مصر میں اخوان المسلمون کو عام انتخابات میں تقریباً نصف نشستیں ملی ہیں۔ مگر خیر، لیبیا میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والوں کے لیے بہت کچھ تبدیل ہوتا [مزید پڑھیے]

لیبیا اور اُس کے ’’انتہا پسند‘‘

October 1, 2012 // 0 Comments

لیبیا میں صورت حال اب تک معمول پر نہیں آسکی ہے۔ نیا حکومتی ڈھانچا قائم کیا جارہا ہے مگر سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی بہتری سے زیادہ یہ ہے کہ عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں پر کس طرح قابو پایا جائے۔ لیبیا کا دارالحکومت ٹریپولی بھی، دوسرے بڑے شہر بن غازی کی طرح خاصا جوشیلا اور غیر متوقع ہے۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ کب کیا ہو جائے۔ بن غازی میں ۱۱؍ ستمبر کو گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف احتجاج کے دوران امریکی سفیر اور تین دیگر امریکیوں کو امریکی قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا تھا۔ اس واقعے کے ایک دن بعد وزیراعظم کے منصب پر منتخب ہونے والے مصطفی ابوشغور (Mustafa Abushagur) نے اب تک کابینہ تشکیل نہیں دی ہے اور یہی [مزید پڑھیے]

ایک اخوانی، لیبیا کی نئی سیاسی جماعت کے سربراہ منتخب

April 16, 2012 // 0 Comments

لیبیا کی اسلام پسند و آزادی پسند نئی سیاسی جماعت نے تین دن کے اجتماع کے بعد ایک اخوانی محمد ساوان (Sawan) کو اپنا سربراہ منتخب کر لیا۔ محمد ساوان سابق آمر معمر قذافی کے دور میں سیاسی قیدی رہے، قذافی نے ہر قسم کی سیاسی جماعت کے قیام پر پابندی لگائی ہوئی تھی کہ یہ ملک سے غداری ہے۔ نئی قائم ہونے والی جسٹس اینڈ کنسٹرکشن (Justice and Construction) پارٹی کی سربراہی کے لیے انہوں نے موجود افراد میں سے اکیاون (۵۱) فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ساوان نے کہا کہ ’’اس وقت میرے جذبات عجیب ہو رہے ہیں، سیاسی جماعت بنانے کے جرم میں قذافی نے مجھے قید رکھا، میں ان لوگوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے یہاں مجھ پر اعتماد کیا‘‘۔ دارالحکومت [مزید پڑھیے]

بشیر عبدالسلام الکبتی مراقب عام اخوان المسلمون، لیبیا کا انٹرویو

February 16, 2012 // 0 Comments

لیبیامیں اخوان المسلمون کے نئے مراقب عام بشیر عبدالسلام الکبتی ۳۳ سال امریکا میںرہے ہیں۔ ابتداً وہ تعلیم کی غرض سے امریکا گئے تھے۔ ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکا میںرہ کر ہی قذافی حکومت کی مخالفت شروع کر دی اور معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوتے ہی لیبیاواپس آگئے۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے ’’بن غازی‘‘ میںایک رفاہی تنظیم بنائی جو ’’ندائے خیر‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہ اس کے چیف ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ یہ تنظیم لیبیائی عوام کی مدد کے لیے رفاہی اور ریلیف کی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ قذافی حکومت کے سقوط سے پہلے ان کے دورۂ کویت کے دوران ہفت روزہ ’’المجتمع‘‘ کے نمائندے جمال الشرقاوی [مزید پڑھیے]

1 2