مشرقِ وسطیٰ

چین اور مشرقِ وسطیٰ

July 16, 2015 // 0 Comments

سیکڑوں برسوں تک مسافر قاہرہ کے روایتی بازار خان الخلیلی کی چکر دار گلیوں میں قالینوں، زیورات، مسالوں اور تانبے کی بنی اشیاء پر بھاؤ تاؤ کرتے رہے۔ آج ان اشیاء کا دستکاری کے کسی مقامی کارخانے کی بہ نسبت چین کی کسی فیکٹری میں بڑے پیمانے پر تیار ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ چین اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے تعلقات میں تجارت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گزری دہائی میں اس میں ۶۰۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ۲۰۱۴ء میں یہ ۲۳۰؍ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ بحرین، مصر، ایران اور سعودی عرب سب سے زیادہ چین سے مال درآمد کرتے ہیں۔ ایران، عمان اور سعودی عرب سمیت خطے کے کئی ممالک کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی چین ہے۔ اپریل [مزید پڑھیے]

امریکا اور مشرقِ وسطیٰ: انکسار یا بے نیازی؟

July 1, 2015 // 0 Comments

امریکا کئی مشکلوں کے بعد یہ بات سمجھ چکا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ مگر براک اوباما کی سوچی سمجھی بے نیازی مسائل کو اور بڑھا رہی ہے۔ مئی کا آخری پیر تھا، جب براک اوباما نے آرلنگٹن قومی قبرستان میں سفید سنگِ مرمر سے بنے اسٹیج پر کھڑے ہو کر مختصر تقریر کرتے ہوئے اس حوالے سے کافی کچھ بتا دیا کہ وہ امریکی عسکری قوت کا استعمال کن معنوں میں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج ۱۴؍برس بعد آنجہانی فوجیوں کو یاد کرنے کا یہ پہلا دن آیا ہے، جب امریکا کسی بڑی زمینی جنگ میں ملوث نہیں ہے‘‘۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد جو کبھی ایک لاکھ سے زائد تھی، اب اس کے دسویں حصے [مزید پڑھیے]

مسلم دنیا اور ’’نا اہلی‘‘ کا بحران

October 1, 2014 // 0 Comments

مسلم دنیا زوال کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اب کبھی بھرپور اعتماد کا لمحہ نہیں آئے گا اور سب کچھ اِسی طور چلتا رہے گا۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے کہ مسلمان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین انحطاط سے دوچار ہیں؟ کیا اِس سے بُرے لمحات بھی مسلم امہ پر وارد ہوئے ہیں؟ کیا بغداد پر ہلاکو خان کے حملے کو آج کے لمحے سے زیادہ خطرناک اور شدید زوال قرار دیا جاسکتا ہے؟

1 2 3