Abd Add
 

مراکش

مراکش: انتخابات کے راستے سیاسی تبدیلی

October 16, 2016 // 0 Comments

مغربی ذرائع ابلاغ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق شمالی افریقا کے ایک اہم ملک مراکش میں ۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو جو پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے، اس میں حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) کو ایک بار پھر کامیابی ملی ہے۔ دستوری اصلاحات کے بعد ۲۰۱۱ء میں ہوئے پہلے پارلیمانی انتخابات کی طرح اس بار بھی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، حالانکہ اس بار اسے پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں، تاہم وہ تنہا حکومت بنانے کی حالت میں نہیں۔ لہٰذا اسے اس مرتبہ بھی مخلوط حکومت ہی بنانی پڑے گی۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ مراکش کا موجودہ سیاسی نظام اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ [مزید پڑھیے]

مراکش: بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت کامیاب

September 16, 2015 // 0 Comments

مراکش میں سیاسی استحکام کی وہ سطح نہیں رہی، جو ہوا کرتی تھی اور جس کے ذریعے بہتر انداز سے آگے بڑھنا ممکن تھا۔ بلدیاتی انتخابات کو حکمراں جماعت کی مقبولیت کے لیے ایک بڑی آزمائش کے روپ میں دیکھا جارہا تھا۔ بادشاہت ختم کرنے اور جمہوری اصلاحات نافذ کرنے کے لیے چلائی جانے والی ملک گیر تحریک کے نتیجے میں موجودہ حکومت کو قائم ہونے کا موقع ملا تھا۔ پی جے ڈی سے عوام کو کسی بھی دوسرے معاملے سے زیادہ اس بات کی توقع رہی ہے کہ وہ ملک کو زیادہ سے زیادہ جمہوریت کی طرف لے جانے میں اپنا کردار عمدگی سے ادا کرے گی۔ بلدیاتی انتخابات کو عوام نے جمہوریت کی طرف لے جانے والے ایک اہم راستے کے طور پر [مزید پڑھیے]

مراکش میں حقیقی تبدیلیاں

April 1, 2012 // 0 Comments

ایک دن مراکش کے وزیراعظم عبداللہ بن کیران (Abdelilah Benkirane) گھر جارہے تھے کہ راستے میں چند مشتعل نوجوانوں نے ان کا قافلہ روک لیا اور شکوہ کیا کہ آپ نے تو نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا مگر پولیس ہم پر تشدد کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے وعدہ کیا کہ اگر کوئی پولیس افسر قانون توڑتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس بات پر چند نوجوانوں نے تالیاں بجاکر انہیں داد دی۔ مراکش میں چند ایک تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ جس جاگیردارانہ نظام نے ملک کو عجائب گھر میں تبدیل کردیا تھا وہ اب ختم ہوتا جارہا ہے۔ ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ ڈبل ڈیکر ٹرینیں متعارف کرائی گئی [مزید پڑھیے]

مراکش: اسلام پسندوں کی کامیابی اور درپیش چیلنج

February 1, 2012 // 0 Comments

مراکش میں عوامی دبائو کے نتیجے میں گزشتہ ۲۵ نومبر کو قبل ازوقت انتخابات منعقد ہوئے اور اس میں شک نہیں کہ یہ انتخاب شریک جماعتوں کے لیے ایک بڑا اہم امتحان تھا۔ اس الیکشن میں سامنے والا ہر امیدوار خوفزدہ تھا کہ وہ ووٹروں کا قابل قبول تناسب حاصل کر پائے گا یا نہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے ووٹروں کی تعداد ۴۰ سے ۴۵ فیصد تھی۔ لیکن جو لوگ عوام کی بھاری اکثریت کا انتخابات میں حصہ لینے کا دعویٰ کر رہے تھے، یہ تعداد ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھی، مگر اس کے باوجود یہ ایک معقول تناسب تھا اور قدیم جمہوری ملکوں میں الیکشن کے موقع پر عام طور پر جو تناسب ہوتا ہے، یہ [مزید پڑھیے]

مراکش: ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘‘ کی کامیابی

December 1, 2011 // 0 Comments

مراکش میں اعتدال پسند اسلامی جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار کامیابی حاصل کر لی ہے، یہ عرب ممالک میں انقلاب کے بعد ایک نئی مذہبی جماعت کی بڑی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی اس وقت ہوئی ہے جب صرف ایک ماہ پہلے ہی تیونس میں انقلاب کے بعد اسلامی جماعت النہضہ نے کامیابی حاصل کی ہے اور مصر میں انتخاب کے لیے پیش گوئی جاری ہے (واضح رہے کہ مصر میں انتخاب کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہے، جس میں آخری اطلاعات تک اخوان المسلمون کو برتری حاصل ہے)۔ مراکش کے وزیر داخلہ طیب شرقوی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ ۳۹۵ سیٹوں میں سے ۲۸۸ پر انتخابات ہوئے، جن میں اسلامی جماعت نے ۸۰ نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے جو [مزید پڑھیے]

مراکش: انتخابات کے بعد۔۔۔

December 1, 2011 // 0 Comments

مراکش میں ایک معتدل اسلامی جماعت فاتح کے طور پر سامنے آئی ہے۔ عرب میں اٹھنے والی حالیہ لہر میں یہ دوسرا واقعہ ہے کہ عوام نے اسلام پسندوں کو چُنا ہے۔ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے ہفتہ تک جاری ہونے والے نامکمل ابتدائی نتائج کے مطابق سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ مگر یہ کامیابی اکیلے حکومت بنانے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ انتخابات ملک میں نئے دستور کے تحت پہلے انتخابات ہیں۔ اگر آگے بھی یہ نتائج برقرار رہے تو ’’شاہ‘‘ کو اس پارٹی ہی سے وزیراعظم نامزد کرنا ہوگا اور اس پارٹی کو مخلوط حکومت کی سربراہی کا اختیار ہوگا۔ پچھلے برس جمہوریت کے لیے مظاہروں کے بعد مراکش کے شاہ محمد ششم نے جو دستور بنایا، وہ مکمل آئینی [مزید پڑھیے]