Abd Add
 

معمر قذافی

ایک اخوانی، لیبیا کی نئی سیاسی جماعت کے سربراہ منتخب

April 16, 2012 // 0 Comments

لیبیا کی اسلام پسند و آزادی پسند نئی سیاسی جماعت نے تین دن کے اجتماع کے بعد ایک اخوانی محمد ساوان (Sawan) کو اپنا سربراہ منتخب کر لیا۔ محمد ساوان سابق آمر معمر قذافی کے دور میں سیاسی قیدی رہے، قذافی نے ہر قسم کی سیاسی جماعت کے قیام پر پابندی لگائی ہوئی تھی کہ یہ ملک سے غداری ہے۔ نئی قائم ہونے والی جسٹس اینڈ کنسٹرکشن (Justice and Construction) پارٹی کی سربراہی کے لیے انہوں نے موجود افراد میں سے اکیاون (۵۱) فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ساوان نے کہا کہ ’’اس وقت میرے جذبات عجیب ہو رہے ہیں، سیاسی جماعت بنانے کے جرم میں قذافی نے مجھے قید رکھا، میں ان لوگوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے یہاں مجھ پر اعتماد کیا‘‘۔ دارالحکومت [مزید پڑھیے]

بشیر عبدالسلام الکبتی مراقب عام اخوان المسلمون، لیبیا کا انٹرویو

February 16, 2012 // 0 Comments

لیبیامیں اخوان المسلمون کے نئے مراقب عام بشیر عبدالسلام الکبتی ۳۳ سال امریکا میںرہے ہیں۔ ابتداً وہ تعلیم کی غرض سے امریکا گئے تھے۔ ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکا میںرہ کر ہی قذافی حکومت کی مخالفت شروع کر دی اور معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوتے ہی لیبیاواپس آگئے۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے ’’بن غازی‘‘ میںایک رفاہی تنظیم بنائی جو ’’ندائے خیر‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہ اس کے چیف ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ یہ تنظیم لیبیائی عوام کی مدد کے لیے رفاہی اور ریلیف کی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ قذافی حکومت کے سقوط سے پہلے ان کے دورۂ کویت کے دوران ہفت روزہ ’’المجتمع‘‘ کے نمائندے جمال الشرقاوی [مزید پڑھیے]

چینی خارجہ پالیسی اور لیبیا

October 1, 2011 // 0 Comments

لیبیا کا بحران چین کے لیے ایک بڑی آزمائش کی شکل میں ابھرا ہے۔ اس نے اب تک بظاہر عدم مداخلت کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ مگر جہاں مفادات داؤ پر لگے ہوں وہاں کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور کرنا پڑتا ہے۔ چین کے لیے اس اعتبار سے لیبیا کا بحران خاصا پریشان کن ہے کیونکہ تیل اور گیس کے شعبے میں اس کی سرمایہ کاری اچھی خاصی ہے اور لیبیا میں حکومت یا نظام حکومت کی تبدیلی اس کے لیے بہت معنی خیز ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں چین واحد ہے جس نے اب تک لیبیا میں حکومت کے خاتمے اور عبوری قومی کونسل کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عرب دنیا میں [مزید پڑھیے]

معمر قذافی کے اقتدار کے ۴۰ سال

October 1, 2009 // 0 Comments

لیبیا کے لیڈر معمر قذافی کا زوال اب اختتام پذیر ہے۔ قوم انہیں عملی سطح پر مسترد کرچکی ہے۔ مگر اس سے کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ معمر قذافی نے چالیس سال قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ ان چالیس برسوں میں انہوں نے پڑوسی ممالک سے کئی جنگیں لڑی ہیں، کئی بار ان پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں، ملک کو مختلف تنازعات کے باعث اقتصادی ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دنیا نے ان کا تمسخر بھی اڑایا ہے۔ معمر قذافی نے یکم ستمبر کو اقتدار کے چالیس سال مکمل کیے۔ انہوں نے ۱۹۶۹ء میں آرمی کیپٹن کی حیثیت سے شاہ ادریس کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ اب بھی وہ جواں عزم ہیں اور مزید حکمرانی [مزید پڑھیے]