اخوان المسلمون

حکمرانی بذریعہ ’’سیاسی اسلام‘‘

September 16, 2017 // 0 Comments

کسی زمانے میں اخوان المسلمون کو اسلامی دنیا کی ایک انتہائی متحرک اور نتیجہ خیز تحریک کا درجہ حاصل تھا، مگر اب اس کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ایک رکن نے حال ہی میں اپنے ساتھیوں اور مجموعی طور پر تحریک کی حالت بیان کرنے کے لیے ’’مردہ، مرتے ہوئے یا زیر حراست‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ جنوری ۲۰۱۱ء میں عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر دوڑی، جس کے بعد اخوان نے مصر میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ۲۰۱۲ء میں وہ حکمران جماعت بن گئی۔ مگر جنرل عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں فوج نے، عوام کے بھرپور تعاون سے، اخوان کو اقتدار سے نکال پھینکا۔ چار سال بعد اب جنرل السیسی مصر کے صدر ہیں اور انہوں نے اخوان کو ربع [مزید پڑھیے]

عرب دنیا کے مَلِک اور مملوک ریاستیں

July 16, 2016 // 0 Comments

قاہرہ کے دفتر میں بیٹھ کر نیل کے نظاروں سے لطف لیتا تاجر اپنا موبائل فون شیشے کے جار میں رکھتا ہے جبکہ شہر کے دیگر حصوں میں ایک لکھاری اپنا فون فرج میں رکھتی ہے۔ اگر اسمارٹ فون کبھی ساری عرب دنیا میں انقلابیوں کا ہتھیار تھے تو اب یہ خفیہ اداروں کا آلۂ کار بن گئے ہیں تاکہ مخالفین کے فون ہیک کرکے انہیں جاسوسی کے آلات میں بدل دیا جائے۔ ان دنوں عرب دنیا میں کام کرنے والے صحافی کو ایسے اسمارٹ فون کی ضرورت ہے جو روابط کی انتہائی محفوظ ایپس سے مزین ہو۔ مصری اس ضمن میں ’’سگنل‘‘ کو پسند کرتے ہیں، سعودیوں کی ترجیح ’’ٹیلی گرام‘‘ ہے اور لبنانی ابھی تک ’’واٹس ایپ‘‘ پر بھروسا کیے ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۱ء [مزید پڑھیے]

اِخوان المسلمون کے لیے بڑھتی مشکلات

February 1, 2015 // 0 Comments

اِخوان نے عرب دنیا میں بیداری کی لہر سے جو سفر بہت تیزی سے شروع کیا تھا، وہ اب اُتنی ہی تیزی سے خاتمے کے نزدیک دکھائی دے رہا ہے۔ قطر کی طرف سے پسپائی اختیار کیے جانے کے بعد اب خطے میں اِخوان کی حمایت کرنے والا صرف ترکی رہ گیا ہے۔

1 2