Abd Add
 

اخوان المسلمون

مصر اور ایران کی ’’مقدس سیاست‘‘

May 16, 2013 // 0 Comments

مصر کے صدر محمد مرسی نے گزشتہ ماہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد سے ہاتھ کیا ملایا، اب انہیں ہر طرف سے مخالفت اور تنقید کا سامنا ہے۔ حد یہ ہے کہ ان کے اپنے (حکمراں حلقے کے) لوگ بھی انہیں شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ نائب صدر، وزیر انصاف اور چند سینئر بیورو کریٹس سمیت بہت سے لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ ۲۳؍اپریل کو مصری صدر کے ایک سینئر لیگل ایڈوائزر فواد جداللہ نے شدید غصے کی حالت میں استعفیٰ دے دیا اور ایک خط عوام کے نام لکھا جس میں صدر محمد مرسی کے بارے میں کہا کہ وہ بصیرت نہیں رکھتے، مصری نوجوانوں کے ولولے کو بروئے کار لاکر انقلاب کے اہداف حاصل کرنا نہیں جانتے اور یہ [مزید پڑھیے]

’’اخوان المسلمون عوام کے دِلوں پر راج کرتی ہے!‘‘

March 1, 2013 // 0 Comments

کائنات عرب بیدار ہو رہی ہے، اور عالم اسلام تو ایک طرف، دنیا بھر کی نظریں عرب بہار اور اس کے ثمرات پر مرکوز ہیں، حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر تبدیلیاں عوامی امنگوں کے مطابق رہیں تو یہ نہ صرف اس ملک کی بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے بھی نشاۃ ثانیہ ثابت ہوں گی۔ مصر میں آنے والی تبدیلی نے مغرب، خصوصاً اسرائیل اور امریکا کے پالیسی سازوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اپنے تاریخی پس منظر اور محلِ وقوع کی اہمیت کی وجہ سے مصر میں ہونے والی معمولی تبدیلی کے جھٹکے بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور خصوصاً جب معاملہ اسلام پسندوں کی کامیابی کا [مزید پڑھیے]

لیبیا میں اخوان کے مضبوط ہوتے قدم

February 16, 2013 // 0 Comments

ایک لیبیائی افسر بڑے فخر سے موبائل فون پر اپنی تِڑواں بیٹیوں کی تصویر دکھاتا ہے۔ تینوں کے چہرے پر بہت باریک سا، جھلی نما کپڑا پڑا ہوا ہے۔ یہ افسر اخوان المسلمون سے وابستگی رکھنے والی جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ اخوان المسلمون نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں دو سال قبل اٹھنے والی عوامی بیداری کی لہر سے بہت کچھ پایا ہے، مگر لیبیا میں اس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ گزشتہ جولائی میں منعقدہ انتخابات میں اخوان المسلمون سے وابستہ پارٹی بمشکل بیس فیصد نشستیں حاصل کرسکی۔ تیونس اور مصر میں اخوان المسلمون کو عام انتخابات میں تقریباً نصف نشستیں ملی ہیں۔ مگر خیر، لیبیا میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والوں کے لیے بہت کچھ تبدیل ہوتا [مزید پڑھیے]

۲۰۱۲ء کا مصری جمہوری آئین

February 1, 2013 // 0 Comments

مصر میں حسنی مبارک کے تیس سالہ ظالمانہ دَور کے عوامی جدوجہد کے نتیجے میں اختتام اور مختلف مراحل میں ہونے والے عام انتخابات میں اخوان المسلمون نے بے مثال کامیابی حاصل کی۔ اس کے اگلے مرحلے میں صدارتی انتخابات میں بھی اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد مرسی کامیاب ہوئے اور جون ۲۰۱۲ء میں صدارتی حلف اٹھایا۔ ملک میں دستور ساز کمیٹی قائم کی گئی، جس نے دستور سازی کا عمل مکمل کیا، اس دستور پر دو مرحلوں میں ریفرنڈم کروایا گیا، تاکہ عوامی رائے معلوم کی جاسکے۔ ۱۵؍دسمبر اور ۲۲؍دسمبر ۲۰۱۲ء کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں عوام کی بڑی تعداد نے آئین کے حق میں ووٹ دیا اور اس طرح مصر میں جمہوری آئین کی تشکیل کا عمل مکمل ہوا۔ [مزید پڑھیے]

صومالیہ: نئے صدر کو درپیش چیلنج

December 1, 2012 // 0 Comments

صومالی سیاستدان حسن الشیخ محمود اپنے ملک کی سیاست کے موجیں مارتے سمندر میں علم و ادب اور شہری سرگرمی کے باب سے داخل ہوئے، لیکن بعض لوگ (خاص طورسے اسلام پسندوں کے اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے کی وجہ سے) ان کو عرب بہار کی تجلیات میں سے ایک تجلی گردانتے ہیں۔ وہ خانہ جنگی سے تباہ و برباد ملک میں اخوان المسلمون سے قریب، اسلام پسندوں کے ایک نشان ہیں۔ ۱۹۶۰ء میں آزادی کے بعد سے وہ صومالیہ کے آٹھویں صدر ہیں۔ آزادانہ انتخاب رائے کے عمل کے سائے میں وہ پہلے منتخب صدر ہیں، جنہوں نے عبوری حکومت کی جگہ لی ہے۔ ۱۹۹۱ء کے بعد لڑائی جھگڑوں سے مرکزی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد اور ۲۰۰۰ء میں تعمیرنو کا [مزید پڑھیے]

مصری آئین میں مذہبی کردار کی بحث طول پکڑ گئی!

November 1, 2012 // 0 Comments

مصر اور کئی دوسرے ممالک میں آئین تیار کرنے والوں کو مذہب کے کردار کے حوالے سے خاصی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ مصر کا نیا آئین مرتب کرنے والوں کو حال ہی میں اُس وقت شدید مشکلات پیش آئیں جب منحرف عیسائیوں نے مطالبہ کیا کہ آئین میں صرف مسلمانوں کو ذہن نشین نہ رکھا جائے بلکہ عیسائیوں کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے۔ جو لوگ شریعت کو ہاتھ کاٹنے اور گردن اُڑانے کا معاملہ گردانتے ہیں، اُن کے لیے مصری (قبطی) عیسائیوں کا یہ مطالبہ خاصا عجیب تھا۔ مذہبی قوانین اور قواعد کو صورتِ حال کے مطابق ڈھالنا خاصا پیچیدہ عمل ہے۔ آئین مرتب کرنے والوں کو صرف مصر میں نہیں بلکہ تیونس، سوڈان اور اب لیبیا میں بھی اِس حوالے [مزید پڑھیے]

گستاخانہ امریکی فلم، عالم اسلام اور احتجاج

October 16, 2012 // 0 Comments

امریکا کی ایک گستاخانہ فلم پر اسلامی معاشروں میں جو ردعمل دکھائی دیا ہے، اس سے بہت سے مسلمان پریشان دکھائی دیے ہیں۔ بہتوں کی نظر میں احتجاج حد سے گزر گیا اور اس سے صرف مسائل پیدا ہوئے۔ یہی حال مبلغین اور واعظین کی تقاریر کا تھا۔ ۱۴؍ ستمبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مشہور زمانہ تحریر اسکوائر میں ظہر کی نماز کے بعد ایک خطیب کھڑا ہوا اور اس نے مجمع کو مخاطب کرکے بولنا شروع کیا۔ انتہائی پرجوش انداز سے خطاب کرتے ہوئے اُس نے مسلمان بھائیوں کو صلیبی جنگجوؤں سے مقابلے کے لیے ہر قسم کے ہتھیاروں کے ساتھ تیار رہنے کو کہا۔ اس تقریر کے کچھ ہی دیر بعد بڑی تعداد میں نوجوانوں نے امریکی سفارت خانے کی سلامتی [مزید پڑھیے]

مصر کو نظرانداز کر کے خطے میں حقیقی امن و استحکام ممکن نہیں!

October 1, 2012 // 0 Comments

کسی بھی مملکت کے سربراہ سے انٹرویو آسان نہیں ہوتا اور خاص طور پر ایسے سربراہِ مملکت سے جسے منصب سنبھالے ہوئے زیادہ مدت نہ گزری ہو۔ مصر کے صدر محمد مرسی کا معاملہ تھوڑا سا مختلف تھا۔ وہ انگریزی اچھی جانتے اور بولتے ہیں۔ کسی سوال کو سمجھنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ بعض مواقع پر ان کے ترجمان نے جواب دیے جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں عام بات ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا مگر خیر، صدر مرسی نے ہمیں ۹۰ منٹ دیے جو کھل کر گفتگو کے لیے اچھا خاصا وقت تھا۔ پہلا سرکاری مترجم خاصا محتاط تھا اور بہت سے معاملات میں ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بعد میں صدر نے ایک اور مترجم بلایا جو [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 7