Abd Add
 

مسلمان

بوسنیا سے وابستہ وحشتناک یادیں

September 1, 2005 // 0 Comments

نورا السفیک اور اسکی بالغ بیٹی مقبولا (Magbula) Tuzla میں واقع اپنے گھر سے سربرانیکا مہینے میں دو بار بذریعہ بس بوسنیا کے پہاڑیوں میں واقع معدنیات سے مالا مال شہر کو جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نازی موت کے کیمپوں کے بعد یورپ کا بدترین قتلِ عام دیکھنے میں آیا تھا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۹۵ء کو سربیائی فوجیں جن کی قیادت جنرل راٹکو ملادک (Ratko Mladic) کر رہے تھے‘ نے سربرانیکا میں کم و بیش ۷۸۰۰ مسلمان مردوں اور بچوں کو قید کر کے ذبح کر دیا۔ انہی کی طرح اور بھی بہت ساری عورتیں۔ بیوہ‘ یتیم اور بھائیوں سے محروم ہو گئیں۔ وہ قصبہ جہاں صرف ۳۵۰۰ مکین رہتے ہیں‘ وہاں روزانہ چار بسیں Tuzla اور سراجیو کے لیے چلتی ہیں‘ جو [مزید پڑھیے]

۱۴؍ اگست ۲۰۰۵ء

September 1, 2005 // 0 Comments

پاکستان کا یوم آزادی ۱۴ اگست ۲۰۰۵ء کو تھا۔ اس روز قیام پاکستان کو ۵۸ برس پورے ہو گئے۔ اس نصف صدی سے زائد کا حساب لگانا ہو یا ماقبل سے تقابل کرنا ہو تو کچھ پیچھے کی طرف جانا ہو گا۔ پھر ہی ہم کچھ صحیح فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ اسی آئینہ تقابل میں دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان بننے سے مجموعی طور پر مسلمانوں کی زندگی میںبہت مثبت فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ انگریزوںنے مسلمانوں سے حکومت حاصل کی تھی۔ ہندو اکثریت کے ساتھ ہم آہنگی اس کے ہر طرح سے مفاد میں تھی۔ یوں آہستہ آہستہ دونوں قومیں سینئر اور جونیئر پارٹنر بن گئیں۔ مسلمان سماجی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے بہت پیچھے رہ گئے۔ قیام پاکستان سے [مزید پڑھیے]

قائداعظمؒ کا ایک بیان

August 16, 2005 // 0 Comments

پاکستان کے سوال پر کسی مفاہمت کا امکان نہیں۔ ہندوستان کوئی ایک ملک نہیں ہے۔ میں اپنے آپ کو ہندوستانی تسلیم نہیں کرتا۔ ہندوستان ایک ایسی مملکت ہے جس میں کئی قومیں موجود ہیں۔ ان میں دو بڑی قومیں بھی موجود ہیں۔ ہم صرف اس کے طالب ہیں کہ ہماری قوم کے لیے ایک مکمل آزاد ریاست پاکستان کے نام سے قائم کر دی جائے۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ڈھائی کروڑ مسلمان رہ جائیں گے مگر اس کا کوئی علاج نہیں۔ ایک متحدہ وفاق کی صورت میں مسلم صوبہ جات بھی جہاں مسلمان ستر فیصد اکثریت میں ہیں‘ ہندوئوں کے قبضے میں آجائیں گے۔ پاکستان میں ان کی حالت ضرور اچھی ہو گی۔ ہندوستان میں اگر ڈھائی کروڑ مسلمان ہوں گے [مزید پڑھیے]

جنوبی افریقہ میں اسلام کا فروغ

June 1, 2005 // 0 Comments

جنوبی افریقہ کے کالے باشندے افریقی مہاجر آبادیوں کے مذہب اسلام سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں مسلمان ہو رہے ہیں اور اس عیسائی اکثریت والے ملک میں لوگ اپنی مذہبی وابستگی کو آہستہ آہستہ تبدیل کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ نظر آئے گا‘ اگر آپ مردم شماری کے اعداد و شمار کو دیکھیں گے۔ ڈاکٹر شامل جیپی جو یونیورسٹی آف کیپ ٹائون میں ماہرِ تاریخ اسلامی ہیں‘ کا کہنا ہے کہ ’’اسلام بہت تیزی سے فروغ پارہا ہے بالخصوص کالوں کی آبادی میں‘‘۔ وسطی اور مغربی ایشیا سے آنے والے مہاجرین جنہیں اپنے ملک میں غربت کا سامنا تھا‘ اس براعظم کے اقتصادی پاور ہائوس سے استفادہ کے ساتھ ہی ایک نئے افریقی اسلام کا تعارف بھی کرایا [مزید پڑھیے]

مسلمانوں کو عالمگیر تباہی سے دوچار کرنے کی سازش

May 16, 2005 // 0 Comments

امینہ ودود پر تنقید سن کر اور ۱۸ مارچ کو کمپنی کی طرف سے کیے گئے اقدام پر بعض مسلمانوں کا تبصرہ ہے کہ ’’بلاوجہ اس گمراہ کن عورت کے اقدامات پر اتنی توجہ کیوں دی جارہی ہے۔ یہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ جس پر اتنی توجہ دی جائے۔ اس طرح تو اسے مزید مشہور کرنا ہے اور بھی بہت سارے گراں قدر مسائل ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے اور جو حقیقتاً فوری توجہ کے مستحق بھی ہیں‘‘۔ بہرحال یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا کہ یہ لوگ تصور کیے بیٹھے ہیں۔ ان اقدامات کے نتائج جو بزعم خویش ترقی پسند مسلمانوں کی طرف سے کیے جارہے ہیں‘ سے زیادہ سنگین ہیں۔ امینہ ودود کے واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے کا مطالبہ مسلمانوں [مزید پڑھیے]

1 2