Abd Add
 

نریندر مودی

مودی کے لیے صرف امن کا آپشن!

April 1, 2019 // 0 Comments

بھارت میں عام انتخابات کی تیاری ہے۔ ایسے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اگر چاہیں تو صورتِ حال کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنگی جنون کو ہوا دیں۔ پاکستان کے خلاف جاکر ووٹ بینک کو اپنے حق میں کرنے کی بھرپور کوشش کی جاسکتی ہے، مگر اس سے کہیں بڑھ کر اور بہتر آپشن یہ ہے کہ نریندر مودی امن کی بات کریں۔ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی بات کرکے وہ پورے بھارت میں فضا اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ دونوں کے درمیان جنگ کا خطرہ ابھی ابھی ٹلا ہے۔ بھارت کو اس بحران سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ [مزید پڑھیے]

’’انڈو پیسفک ریجن‘‘مودی کی ترجیحات

June 16, 2018 // 0 Comments

آج سے چار برس قبل جب مودی نے اقتدار سنبھالا تو خطے کے حوالے سے جاری معاشی تعلقات پر منحصر خارجہ پالیسی کو تبدیل کر کے سیاسی اور سکیورٹی کے حوالے تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔لیکن تیزی سے تبدیل ہوتے اور تزویراتی طور پر نہایت ہی اہم خطے ’’انڈو پیسفک‘‘ سے متعلق ان کی منصوبہ بندی یا اس حوالے سے ان کا نقطہ نظر جاننابھی اہم ہے۔ مودی کے دورِ اقتدار میں بھارت کی معاشی ترقی اوسطاً ۳ء۷ فیصد رہی۔۲۰۱۶ء سے ۲۰۱۸ء تک بھارت دنیابھر میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ ۲۰۱۸ء اور ۲۰۱۹ء میں معاشی ترقی ۴ء ۷ فیصد تک ہونے کا امکان ہے، جبکہ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۰ء تک یہ ۸ء۷ فیصد تک ہوگی اور [مزید پڑھیے]

نریندر مودی کا اعتماد اپنی جگہ، مگر …

February 1, 2017 // 0 Comments

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک عادت اب سبھی جانتے ہیں۔ وہ پریشانی کو جھٹک دینے کا رجحان رکھتے ہیں۔ بھارت میں پانچ سو اور ہزار کے نوٹ تبدیل کرنے کا عمل کم و بیش پچاس دن جاری رہا۔ ان پچاس دنوں میں کروڑوں افراد پریشانی سے دوچار ہوئے۔ ملک بھر میں لاکھوں، بلکہ کروڑوں سودے بگڑگئے۔ نوٹ بدلوانے کے لیے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے باوجود نریندر مودی کو یقین ہے کہ ان کی جماعت (بھارتیہ جنتا پارٹی) ماہِ رواں میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ مودی نے گزشتہ ماہ اپنی آبائی ریاست میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی معیشت سب سے [مزید پڑھیے]

’’نریندر مودی پھر متحرک‘‘

July 16, 2016 // 0 Comments

نریندر مودی بہت جاندار اور باصلاحیت فروش کار (Salesman) ہیں۔ گزشتہ کئی بیرونی دوروں میں اس بات کا اندازہ انہوں نے نہ صرف اپنے الفاظ سے بلکہ اپنے انداز سے بھی کرایا ہے۔ اپنی راحت انگیز مسکراہٹ، روایتی لباس اور گرم جوشی سے معانقہ کرتے ہو ئے وہ ایک بڑے ملک کے عاجزانہ تاثر کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اسی مہربان سے بھارت میں (جس کا تاثر مودی پیش کر رہے ہیں) ان کی راہنمائی میں بہت سی علاقائی طاقتیں جنم لے رہی ہیں۔ روایتی ہندوستانی سفارتکاری غیر اتحادی (یعنی کسی بھی اتحاد سے اجتناب) طرز کی ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ عالمی مسائل سے دور رہا جائے اور اپنی سرحدوں کے پاس کے [مزید پڑھیے]

نریندر مودی اور زی جن پنگ کا دورۂ امریکا

November 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خود کو یہ باور کراچکے ہیں کہ ’’جو کچھ زی جِن پِنگ کرسکتے ہیں، وہ سب مَیں اُن سے بہتر کر سکتا ہوں‘‘۔ اور اسی یقین کے زیرِ اثر وہ بھی چینی صدر کے پیچھے پیچھے رواں برس ستمبر میں امریکا جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے دورۂ امریکا کا آغاز مغربی ساحلی ریاستوں سے کیا، جہاں وہ صفِ اول کی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کیے اور امریکا کے صدر براک اوباما سے ملاقاتیں کی۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے اپنے ان دوروں کو اپنے اور امریکا، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان [مزید پڑھیے]

نریندر مودی کے ’’رام اور لکھن‘‘

December 16, 2014 // 0 Comments

نریندر مودی نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے لیے خاصا صدارتی انداز اختیار کیا ہے۔ کوئی کتنا ہی طاقتور ہو، تنہا تو حکومت نہیں چلا سکتا۔ نریندر مودی کو بھی دو افراد پر مکمل بھروسا ہے۔ ایک تو امیت شاہ ہے جس نے نریندر مودی کے لیے انتخابی کامیابی یقینی بنائی ہے۔ وہ انتخابی مہم کا انچارج تھا اور اس پر بڑے پیمانے کی دھاندلیوں کے الزامات ہیں۔ دوسرے ارون جیٹلی ہیں جو امیت شاہ کی کوششوں کے نتیجے میں قائم ہونے والی اتھارتی سے پالیسیاں بناتے ہیں۔ ان دونوں کی مدد اور مشاورت کے بغیر نریندر مودی ایک قدم نہیں بڑھاتے۔

1 2