نریندر مودی

نریندر مودی کا اعتماد اپنی جگہ، مگر …

February 1, 2017 // 0 Comments

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک عادت اب سبھی جانتے ہیں۔ وہ پریشانی کو جھٹک دینے کا رجحان رکھتے ہیں۔ بھارت میں پانچ سو اور ہزار کے نوٹ تبدیل کرنے کا عمل کم و بیش پچاس دن جاری رہا۔ ان پچاس دنوں میں کروڑوں افراد پریشانی سے دوچار ہوئے۔ ملک بھر میں لاکھوں، بلکہ کروڑوں سودے بگڑگئے۔ نوٹ بدلوانے کے لیے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے باوجود نریندر مودی کو یقین ہے کہ ان کی جماعت (بھارتیہ جنتا پارٹی) ماہِ رواں میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ مودی نے گزشتہ ماہ اپنی آبائی ریاست میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی معیشت سب سے [مزید پڑھیے]

’’نریندر مودی پھر متحرک‘‘

July 16, 2016 // 0 Comments

نریندر مودی بہت جاندار اور باصلاحیت فروش کار (Salesman) ہیں۔ گزشتہ کئی بیرونی دوروں میں اس بات کا اندازہ انہوں نے نہ صرف اپنے الفاظ سے بلکہ اپنے انداز سے بھی کرایا ہے۔ اپنی راحت انگیز مسکراہٹ، روایتی لباس اور گرم جوشی سے معانقہ کرتے ہو ئے وہ ایک بڑے ملک کے عاجزانہ تاثر کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اسی مہربان سے بھارت میں (جس کا تاثر مودی پیش کر رہے ہیں) ان کی راہنمائی میں بہت سی علاقائی طاقتیں جنم لے رہی ہیں۔ روایتی ہندوستانی سفارتکاری غیر اتحادی (یعنی کسی بھی اتحاد سے اجتناب) طرز کی ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ عالمی مسائل سے دور رہا جائے اور اپنی سرحدوں کے پاس کے [مزید پڑھیے]

نریندر مودی اور زی جن پنگ کا دورۂ امریکا

November 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خود کو یہ باور کراچکے ہیں کہ ’’جو کچھ زی جِن پِنگ کرسکتے ہیں، وہ سب مَیں اُن سے بہتر کر سکتا ہوں‘‘۔ اور اسی یقین کے زیرِ اثر وہ بھی چینی صدر کے پیچھے پیچھے رواں برس ستمبر میں امریکا جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے دورۂ امریکا کا آغاز مغربی ساحلی ریاستوں سے کیا، جہاں وہ صفِ اول کی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کیے اور امریکا کے صدر براک اوباما سے ملاقاتیں کی۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے اپنے ان دوروں کو اپنے اور امریکا، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان [مزید پڑھیے]

نریندر مودی کے ’’رام اور لکھن‘‘

December 16, 2014 // 0 Comments

نریندر مودی نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے لیے خاصا صدارتی انداز اختیار کیا ہے۔ کوئی کتنا ہی طاقتور ہو، تنہا تو حکومت نہیں چلا سکتا۔ نریندر مودی کو بھی دو افراد پر مکمل بھروسا ہے۔ ایک تو امیت شاہ ہے جس نے نریندر مودی کے لیے انتخابی کامیابی یقینی بنائی ہے۔ وہ انتخابی مہم کا انچارج تھا اور اس پر بڑے پیمانے کی دھاندلیوں کے الزامات ہیں۔ دوسرے ارون جیٹلی ہیں جو امیت شاہ کی کوششوں کے نتیجے میں قائم ہونے والی اتھارتی سے پالیسیاں بناتے ہیں۔ ان دونوں کی مدد اور مشاورت کے بغیر نریندر مودی ایک قدم نہیں بڑھاتے۔

مودی کو وزیراعظم بننے سے کون روک سکے گا؟

May 1, 2014 // 0 Comments

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی رہنما اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کا امکان ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُنہیں وزیراعظم بننا بھی چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ کوئی ہے جو مودی کو وزیراعظم بننے سے روک سکے؟

نریندر مودی : اکثریت نہیں، ’’اقلیت‘‘ کا آدمی

January 1, 2014 // 0 Comments

بھارت کی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کا شمار ملک کے متنازع ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ گجرات میں فروری اور مارچ ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات کے حوالے سے ان کے کردار پر اب تک بحث ہو رہی ہے۔ انہیں ’’گجرات کا قصائی‘‘ بھی قرار دیا گیا۔ اب وہ وزیر اعظم کے منصب کے لیے مضبوط امیدوار کی حیثیت سے خود کو سامنے لا رہے ہیں