Abd Add
 

مقبوضہ کشمیر

بھارتی عدلیہ کا شرمناک روپ

October 1, 2019 // 0 Comments

بھارت کے جج کشمیر میں حکومتی زیادتیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے فیصلوں کو غیر معمولی تاخیر سے دوچار رکھا تو کسی بھی پیچیدہ یا متنازع معاملے پر رولنگ دینے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ دو ماہ قبل بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بہت ہی دیدہ دلیری سے سات عشروں سے برقرار قانونی نظیر ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت سے محروم کردیا یعنی اس کی نیم خود مختار حیثیت ختم کردی۔ حکومت نے جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو ختم کرکے پورے خطے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور دونوں کو یونین ٹیریٹری یعنی مرکز کا علاقہ قرار دے دیا۔ اب جموں و کشمیر پر نئی دہلی کی قومی یا مرکزی [مزید پڑھیے]

مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال

June 16, 2017 // 0 Comments

اسے بہت بری طرح پیٹا گیا تھا اور وہ شدید زخمی حالت میں پڑا تھا، فاروق ڈار کوفوجی جیب کے بمپر کے ساتھ باندھ کر جیپ کومقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سرینگر میں گھمایا گیا۔ بھارتی فوج نے اس پر یہ الزام لگایا کے وہ بھارتی فوجیوں پر پتھر پھینکتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتاہے۔ ۹؍اپریل کو فاروق ڈار کی یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر پھیل گئی اس ویڈیو کے پھیلتے ہی سرینگر میں غم و غصہ کی لہر دوڑگئی۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت انتخابات ہورہے ہیں اور ان انتخابات کو پُرامن رکھنے کے لیے بھا رتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے، انتہائی شرمناک بات تو یہ ہے کہ وادی میں رہنے والے شہریوں میں سے صرف سات [مزید پڑھیے]

مسلم قائدین کی دو روزہ عالمی کانفرنس

October 1, 2013 // 0 Comments

لاہور میں ۲۵ ،۲۶ ستمبر ۲۰۱۳ء کو اسلامی تحریکوں کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اُمت مسلمہ اور انسانیت کو درپیش سنگین بحرانوں کا جائزہ لینے، ان کے بارے میں ایک متفق علیہ مؤقف اور اُمت مسلمہ کے لیے عملی نقشۂ کار تجویز کرنے کے لیے کانفرنس میں ۲۰ ممالک کے چالیس سے زائد رہنمائوں نے شرکت کی۔ مراکش سے ملائیشیا تک اسلامی تحاریک کے ان اہم سیاسی اور فکری رہنمائوں کی پاکستان آمد بحیثیت قوم ہمارے لیے باعث اعزاز ہے۔ یہ رہنما افراد نہیں، کروڑوں انسانوں کے نمائندہ اور ترجمان ہیں۔ کئی ممالک کے عوام نے متعدد بار ان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیاہے، اور اللہ کی توفیق سے ان سب رہنمائوں اور ان کی تحریکات کادامن ہر طرح کی لوٹ مار اور [مزید پڑھیے]

کبھی نہ بجھنے والی پیاس!

January 1, 2012 // 0 Comments

جنوبی ایشیا میں پینے کے صاف پانی کا حصول ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ اب بھی دریاؤں پر دباؤ غیر معمولی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں وولر جھیل میں پانی کی مقدار تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اس کا رقبہ بھی ۲۱۷ مربع کلومیٹر سے گھٹ کر اب صرف ۸۴ مربع میل رہ گیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں دریا، جھیلیں اور چشمے زیادہ ہیں اور انہیں استعمال کرنے والے کم مگر اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھی پینے کے صاف پانی کا حصول دشوار ہوتا جارہا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو اس مقام کی طرف جائیے جہاں بگلیہار ڈیم بنایا جارہا ہے۔ آپ کو ایک سفید دیوار پورے علاقے کو باقی وادی سے الگ کرتی ہوئی [مزید پڑھیے]

اوباما سے کشمیریوں کو مایوسی

January 16, 2010 // 0 Comments

مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں عرفان انصاری روزانہ سیکڑوں درخواستیں وصول کرتا ہے۔ بہت سے نوجوان کشمیری پرامن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ عرفان انصاری کا کال سینٹر ہے جس میں ۳۰۰ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو بہتر معاشی امکانات کی تلاش میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف جاری تحریک کے تناظر میں دیکھیے تو یہ کال سینٹر جنت معلوم ہوتا ہے۔ عرفان انصاری کے پاس دس ہزار سے زائد نوجوانوں کے کوائف موجود ہیں۔ وہ ان سب کو ملازمت فراہم کرنے سے قاصر ہے تاہم اس کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو باعزت اور مستحکم روزگار ملے۔ کشمیریوں [مزید پڑھیے]