Abd Add
 

اوپیک

اوپیک کی اِجارہ داری خطرے میں!

July 1, 2015 // 0 Comments

امریکا کی سلیٹی صنعتیں (Shale Firms) تیل کی منڈی میں پیداوار مسلسل بڑھا رہی ہیں جس سے کم قیمت پر زیادہ تیل حاصل ہوسکے گا۔ اس سے قبل تیل کی صنعت گویا اس طرح چلائی جارہی تھی کہ بڑی کمپنیاں تیل کے کنوؤں کو اپنے قبضے میں رکھتی تھیں اور تیل پیدا کرنے والی ریاستیں خود کو خوشحال رکھنے کے لیے گٹھ جوڑ کرکے قیمتوں کو تبدیل نہیں ہونے دیتی تھیں۔ یہ گٹھ جوڑ اب ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ تیل استعمال کرنے والے بڑے ممالک کی نمائندہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے ۱۳؍مئی کو کہا کہ عالمی سطح پر اضافی تیل جمع ہورہا ہے کیونکہ امریکی سلیٹی صنعتوں کا عالمی منڈی میں حصہ کم کرنے کے لیے سعودی عرب نے تیل مسلسل فراہم کیا ہے۔ [مزید پڑھیے]

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی اصل وجوہات

September 16, 2005 // 0 Comments

قطرینہ طوفان سے امریکی آئل انڈسٹری کو ہونے والے نقصان کے سبب خام تیل کی قیمت گذشتہ ہفتے فی بیرل ۷۰ ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی۔ یہ اضافہ گذشتہ سال کے مقابلے میں ۳۰ فیصد زیادہ ہے۔ دنیا میں تیل کے ذخائر کے مقدار پر سوالیہ نشان کے ساتھ ہی یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک تیل کی قیمت ہنوز بڑھتی رہے گی۔ یہ بہت زیادہ حیرت کی بات ہے کہ دنیا اس وقت اوپیک کی پوزیشن کا بغور اندازہ لگانا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم تیل برآمد کرنے والے گیارہ ممالک پر مشتمل ہے اور اس کے رکن ممالک کا تیل کی کل پیداوار کے ۴۰ فیصد پر کنٹرول ہے۔ اس ماہ کے آخر میں اوپیک کی ایک میٹنگ ہونی [مزید پڑھیے]

دنیا تیل کے ایک نئے دور میں!

May 1, 2005 // 0 Comments

تیل کی قیمت ۵۰ ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو چکی ہے اور اس کا بہت زیادہ خوف پایا جاتا ہے کہ آئندہ برسوں میں تیل کی قیمت روز افزوں ہو گی۔ آئندہ تیل کا کیا ہو گا؟ اور عالمی معیشت پر تیل کی اس بڑھتی ہوئی قیمت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان کا جواب تلاش کرنے کے لیے ’’ٹائم‘‘ کے کالم نگار ایمی فیلڈمین (Amy Feldman) نے ڈینئیل یرجین (Daniel Yergin) سے سوال کیا جو تیل کے حوالے سے دنیا کے صفِ اول کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ ۵۸ سالہ یرجین کیمبرج انرجی ریسرچ ایسوسی ایٹس کے چیئرمین ہیں اور سیکرٹری آف ایڈوائزری بورڈ کے ایک رکن ہیں نیز پُلیزر انعام یافتہ کتاب “The Prize: The Epic Quest for Oil, Money [مزید پڑھیے]