Abd Add
 

پاک افغان تعلقات

افغان طالبان سے مذاکرات

March 16, 2015 // 0 Comments

اگر کہیں اور ایسا ہوا ہوتا کہ برفانی تودے گرنے سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے کسی پڑوسی ملک نے امداد بھیجی ہوتی تو اِس عمل کو شکریے کے ساتھ قبول کیا جاتا تاہم زیادہ حیرت کا اظہار نہ کیا گیا ہوتا۔ مگر جب حال ہی میں پاکستان نے افغانستان کی وادیٔ پنجشیر میں برفانی تودے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے امدادی سامان سے لدے ہوئے طیارے بھیجے تو دنیا کو اندازہ ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کس حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ اب یہ امکان بھی موجود ہے کہ پاکستان کی حکومت طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات پر آمادہ کرے۔ یہ امکان اگرچہ اب تک محض ایک گمان ہے مگر [مزید پڑھیے]

اچھا ہے کہ زخم مندمل ہوں!

July 16, 2011 // 0 Comments

محمد عمر داؤد زئی کو پاکستان میں افغانستان کا سفیر تین ماہ قبل مقرر کیا گیا تھا۔ وہ صدر حامد کرزئی کے چیف آف اسٹاف اور ایران میں سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نیوز ویک کے سمیع یوسف زئی نے اسلام آباد میں عمر داؤد زئی سے پاک افغان تعلقات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس انٹرویو سے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ ٭ آپ کا کہنا ہے کہ پاک افغان تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔ تجارت پر تو بات ہوئی ہے مگر حقانی نیٹ ورک اور دیگر حساس امور پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ایسا کیوں ہے؟ عمر داؤد زئی: پاک افغان تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے ہر معاملے پر بات ہوئی [مزید پڑھیے]

کابل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت

October 1, 2005 // 0 Comments

جبکہ عالمی توجہات کا نقطہ ارتکاز اب بھی دہشت گردی ہے امریکا واضح طور سے افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کی کامیاب تکمیل پر تکیہ کئے ہوئے ہے جسے ۱۸ ستمبر کو منعقد ہونا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ۲۹۔۲۸ اگست کو افغانستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ ۳۰ سالوں میں ہندوستان کے کسی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ بہرحال افغانستان کی صورت اب بھی مستحکم نہیں ہے۔ ۲۰۰۵ء کے آغاز سے ہی امریکی سپاہیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ القاعدہ کی قیادت ہنوز پاکستان افغان سرحد سے متصل پہاڑوں میں روپوش ہے قبائلی علاقوں میں ۷ ہزار سے زائد افواج کی تعیناتی کے باوجود پاکستان پر یہ وقتاً فوقتاً الزما عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف [مزید پڑھیے]