Abd Add
 

پاک چین دوستی

چین۔۔۔ پاکستان سے دور رہنے پر مجبور!

October 16, 2011 // 0 Comments

امریکا سے بگڑتے ہوئے تعلقات نے پاکستان کو مجبور کردیا ہے کہ چین سے تعلقات مزید مستحکم کیے جائیں اور امریکا سمیت پوری مغربی دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ اگر اُسے الگ تھلگ کردیا گیا یا امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا تو چین کا آپشن موجود ہے۔ امریکی پالیسی ساز بھی صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اِس لیے کسی بھی طرح کی غیر معمولی سفارتی اور عسکری مہم جوئی کے موڈ میں نہیں۔ اُنہیں اندازہ ہے کہ پاکستان نے اِس اہم مرحلے پر امریکا اور افغانستان کا ساتھ چھوڑا تو افغانستان سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی افواج کا بحفاظت نکلنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ چین کیا چاہتا ہے؟ کیا وہ اس پوزیشن میں [مزید پڑھیے]

پاکستان اور بھارت سے چین کے تعلقات کی بدلتی نوعیت

January 16, 2011 // 0 Comments

چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ نے گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک میں ان کے دورے کی نوعیت تقریباً یکساں تھی۔ انہوں نے تعلقات بہتر بنانے اور خطے میں حقیقی استحکام پیدا کرنے کے حوالے سے مختلف معاہدے کیے۔ چین کے وزیر اعظم نے بھارت کو تجارتی حوالے سے اور پاکستان کو اسٹریٹجک معاملات میں غیر معمولی اہمیت دی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوستی کی روش پر گامزن رہا جائے گا۔ وین جیا باؤ کے دورے پر ایک چینی دانشور اور ایک بھارتی صحافی نے جو کچھ محسوس کیا ہے وہ ہم آپ کی خدمات میں پیش کر رہے ہیں۔ فو ژیاؤ کیانگ: وزیراعظم وین جیا باؤ نے حال ہی میں بھارت اور پاکستان کا دورہ [مزید پڑھیے]

پاک چین ایٹمی تعاون اور امریکا کا مخمصہ

May 16, 2010 // 0 Comments

چین نے پاکستان کو دو ایٹمی بجلی گھر دینے کا معاہدہ کیا ہے، جو چشمہ کے مقام پر کام کریں گے۔ یہ دراصل پرانا منصوبہ تھا۔ ۱۹۹۱ء میں پہلے ایٹمی بجلی گھر پر کام کی ابتدا ہوئی اور ۲۰۰۵ء میں دوسرے پر جو اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ معاہدہ کے تحت چشمہ میں ۶۵۰ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے مزید دو ری ایکٹر لگائے جائیں گے۔ پاک چین ایٹمی تعاون سے عالمی سطح پر ایٹمی عدم پھیلائو کی بحث پھر چل نکلی ہے۔ ایٹمی مواد کی تجارت پر بھی پھر انگلی اٹھائی جا رہی ہے۔ پاکستان پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ایٹمی طاقت بننے کے بعد اس نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا سے اس شعبے میں تعاون کیا ہے۔ [مزید پڑھیے]