Abd Add
 

پاک بھارت تعلقات

پاک بھارت رابطے۔۔۔ محتاط رہنے کی ضرورت ہے!

June 1, 2010 // 0 Comments

پاکستان اور بھارت ایک بار پھر تعلقات بہتر بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ رابطوں کا آغاز ہو چکا ہے اور الزامات کے تبادلے کے ساتھ وفود کے تبادلے بھی ہو رہے ہیں۔ معاملات درست کرنے کے لیے دونوں ممالک نے پہلے بھی کئی بار مذاکرات کیے ہیں مگر بات بنی نہیں۔ کشمیر کا مسئلہ تو خیر حل ہو کر ہی نہیں دیا، اب دریائی پانی کی تقسیم کا معاملہ بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے الزامات کی گرد بھی بیٹھنے کا نام نہیں لے رہی۔ مذاکرات کے لیے رابطوں کا آغاز خوش آئند ہے تاہم اس معاملے میں دونوں کو محتاط رہنا پڑے گا۔ ابھی سے بہت سی توقعات وابستہ کر لینا خطرناک ثابت ہو گا۔ ماضی میں توقعات کا [مزید پڑھیے]

پاکستان کا مائنڈ سیٹ بدل گیا!

June 1, 2010 // 0 Comments

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا ہے دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کا مائنڈ سیٹ بدل گیا ہے لہٰذا اب اس سے مذاکرات کی راہ میں کوئی دیوار حائل نہیں ہونی چاہیے۔ بھارتی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این لائیو کی سہاسنی حیدر سے خصوصی انٹرویو میں ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ انٹرویو کی تلخیص پیشِ خدمت ہیں۔ ’’پاکستان کی سوچ بدل رہی ہے اور اس بدلتی ہوئی سوچ کے نتیجے میں ہم تعلقات کے معاملے میں ایک نئے آغاز کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ میں نے حال ہی میں بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی ملاقات کا باریکی سے جائزہ [مزید پڑھیے]

افغانستان میں امریکا کو شکست نہیں ہونی چاہیے!

December 1, 2009 // 0 Comments

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے حال ہی میں امریکا کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ اس دورے سے قبل نیوز ویک کے لیے لیلی ویمتھ نے ان سے انٹرویو کیا جس سے بھارت امریکا تعلقات کے مختلف خد و خال اجاگر ہوتے ہیں۔ یہ انٹرویو پیش خدمت ہے: لیلی ویمتھ: مستقبل میں بھارت اور امریکا کے درمیان تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے آپ کے ذہن میں کیا آئیڈیاز ہیں؟ من موہن سنگھ: سویلین ایٹمی ٹیکنالوجی میں تعاون کے حوالے سے بھارت اور امریکا کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے وہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم اس پر عمل کو یقینی بنائیں گے تاکہ معاہدے کے تحت بھارت کو تمام ممکنہ فوائد مل سکیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم [مزید پڑھیے]

1 2