Abd Add
 

پاکستانی فوج

مشرقی پاکستان کی منصوبہ بند پسپائی

February 16, 2013 // 0 Comments

میں بنگلہ دیش کے قیام کا سبب بننے والی سازشوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں کہنا چاہتا۔ بہت سی باتیں سامنے آہی چکی ہیں۔ میرا زور اس نکتے پر ہے کہ سابق مشرقی پاکستان کو ہمیشہ اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا اور فیصلہ سازی کے عمل میں بھی سابق مشرقی پاکستان کے لوگوں کو کماحقہ شریک نہیں کیا گیا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابی نتائج کی روشنی میں اگر سب سے بڑی جماعت کو اقتدار دینے کا فیصلہ کرلیا جاتا تو ملک توڑنے کا باعث بننے والے انتخابات ملک کو جوڑے رکھنے کا وسیلہ بن جاتے۔ ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی فتح کو صدر یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے ناگواری سے دیکھا کیونکہ شیخ مجیب کو اقتدار [مزید پڑھیے]

کسی بھی قیمت پر!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک آرمی کی گیارہویں کور (پشاور) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک سے ’’نیوز ویک‘‘ کے نذر الاسلام نے راولپنڈی میں انٹرویو کیا جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ٭ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سربراہی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کا کیا کردار ہے؟ آصف یاسین ملک: پاکستانی فوج اور نیم فوجی ادارے دہشت گردی کے خلاف طویل مدت سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی ۱۱ ستمبر ۲۰۱۱ء سے بھی پہلے سے جاری ہے۔ نائن الیون کے بعد تو ہمیں بس حالات کے مطابق خود کو بدلنا تھا۔ پہلے ہم جنگ کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے۔ اب ہم کہیں بھی قانون نافذ کرنے سے متعلق کارروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

پاکستان کو جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر کشیدگی سے دوچار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار امریکیوں کے نزدیک متنازع ہے۔ انہوں نے پاکستان پر حقانی گروپ کی بھرپور حمایت اور مدد کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ دونوں ممالک ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی اور بدحالی بنیادی مسائل ہیں۔ دوسری طرف امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا نہیں کر رہا۔ پاکستان پر شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ واشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر شجاع نواز نے اپنے مضمون میں پاک امریکا تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ جو قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ امریکا [مزید پڑھیے]

اتحادیوں کے بعد کا افغانستان۔۔۔

September 1, 2011 // 0 Comments

امریکی تھنک ٹینک پیس انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کے جناح انسٹی ٹیوٹ کی ایک مشترکہ سروے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین کشیدگی ختم نہ ہوئی تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔ اور اس خانہ جنگی کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہ رہ سکے گا۔ امریکا نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کو محدود یا ختم کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی، جس کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں اپنے آپ کو معاشی سرگرمیوں تک محدود رکھنا ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی سرگرمیوں پر پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں۔ بھارت نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر [مزید پڑھیے]

پاکستان سے سختی برتنا ہوگی!

August 16, 2011 // 0 Comments

ری پبلکن مائک راجرز امریکی ایوان نمائندگان میں انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر اسامہ بن لادن کو چھپانے اور اسے مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاک فوج کے کڑے احتساب اور پاکستان حکومت کے معاملات کی شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے میں وہ غیر لچکدار رویہ اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان کو امداد کی فراہمی جاری رکھنے کی یہی شرط ہونی چاہیے۔ نیوز ویک کی شہر بانو تاثیر نے ان سے ای میل پر جو انٹرویو کیا اس کے اقتباسات ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ٭ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن، صحافی سلیم شہزاد کا قتل اور پاکستانی فورسز کی جانب [مزید پڑھیے]

بھٹو صحیح کہتا تھا!

July 16, 2011 // 0 Comments

ایئر مارشل (ر) اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ رہے ہیں۔ انہوں نے سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا اور ۱۹۷۰ء کے عشرے کے اواخر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی۔ وہ تحریک استقلال کے بانی اور سربراہ تھے۔ آئی ایس آئی سے مبینہ طور پر فنڈ لینے والے اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف ان کی ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ نیوز ویک کے قاسم نعمان نے اسلام آباد میں ۹۰ سالہ اصغر خان سے انٹرویو کیا جس کے اقتباسات ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ نیوز ویک: آپ کے خیال میں پاکستان کے بحرانوں میں فوج کا حصہ کتنا ہے اور اسے کس حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ اصغر خان: بات یہ [مزید پڑھیے]

بین الاقوامی تعلقات اور ہم آہنگ مفادات

January 1, 2011 // 0 Comments

سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان کا پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم مقام ہے۔ آپ رام پور کے شاہی خاندان کے چشم و چراغ اور دوسری جنگ عظیم کے ویٹرن ہیں ’’نیوز ویک‘‘ پاکستان کی نیلوفر بختیار نے اسلام آباد میں صاحبزادہ یعقوب علی خان سے بات چیت کی جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں: نیوز ویک: پاکستان کے سیاسی عدم استحکام میں کن عوامل نے مرکزی کردار ادا کیا ہے؟ صاحبزادہ یعقوب علی خان: بھارت میں جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فوراً بعد جاگیرداری نظام ختم کردیا۔ اس دور میں مسلمانوں کے پاس زرعی زمینیں اچھی خاصی تھی۔ نہرو نے ایک تیر سے دو نشانے لگائے۔ ایک طرف تو مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر زرعی اراضی رکھنے [مزید پڑھیے]

باب وڈ ورڈ کے انکشافات

October 16, 2010 // 0 Comments

معروف امریکی صحافی باب وڈ ورڈ نے افغانستان میں امریکی صدر بارک اوباما کی حکمت عملی سے متعلق اپنی نئی کتاب ’’اوباماز وار‘‘ میں کئی چونکادینے والی باتیں بیان کی ہیں۔ زیر نظر مضمون اس کتاب کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ امریکا میں اب کسی کو بھی افغانستان میں جاری جنگ میں فتح کا یقین نہیں۔ سیاسی اور عسکری حلقوں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانی فوج کو بھارت سے توجہ ہٹاکر افغانستان پر توجہ دینے پر مجبور نہ کیا جاسکا۔ امریکی صدر بھی اب افغان حکمت عملی کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینے ٹا اور قومی سلامتی کے امور میں امریکی صدر کے مشیر جیمز جونز نے گزشتہ سال پاکستان کے دورے میں صدر [مزید پڑھیے]

1 2