Abd Add
 

پاکستان

گیس پائپ لائن۔۔۔ پاکستان پر امریکا کا دبائو

June 16, 2005 // 0 Comments

پاکستان کے راستے ایرانی گیس پائپ لائن کی ہندوستان تک رسائی کے پروجیکٹ پر ہندوستان اور ایران کے درمیان مذاکرات کی شروعات ہی میں پاکستان نے اپنی طرف سے اس پروجیکٹ میں تعاون کرنے کی رضاکارانہ پیشکش کی تھی اور جنرل مشرف نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس پروجیکٹ میں پاکستان کی شمولیت کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہو سکے گی۔ اس وقت تک امریکا کو شاید اس پروجیکٹ کی اہمیت اور اس کے اس علاقہ کی اقتصادیات اور حقیقی ترقی پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن اب جبکہ امریکا کو پتا چل چکا ہے کہ اس پروجیکٹ کی وجہ سے اس خطہ کی توانائی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔ پاکستان اور چین کو بھی [مزید پڑھیے]

الجزیرہ ٹی وی سے متعلق کچھ حقائق

May 16, 2005 // 0 Comments

الجزیرہ ٹی وی کے حوالے سے بعض سٹیلائٹ ٹی وی اور انٹر نیٹ ذرائع نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ ان کے مطابق ان رپورٹوں میں الجزیرہ نیٹ ورک کے علاقائی و بین الاقوامی نیٹ ورک قطری حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ پہلے بی بی سی عربی نشریات کی ملکیت تھا اور سعودی عربیہ اس کے اخراجات برداشت کرتا تھا۔ جب الجزیرہ نے ایک سعودی منحرف کا انٹرویو نشر کیا تو سعودی عرب نے اس پر اعتراض کیا لیکن بی بی سی نے اس طرح کے پروگرام کو روکنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا سعودی حکومت اس بات پر راضی ہو گئی کہ اس ٹی وی نیٹ ورک کو فروخت کر دیا جائے اور قطری شہزادہ (ولی عہد) نے اسے ۱۵ کروڑ ڈالر کے [مزید پڑھیے]

پاکستان میں جمہوریت سے متعلق پس و پیش

May 1, 2005 // 0 Comments

ڈاکٹر بیٹینا روبوٹکا (Betina Robotka) کا تعلق مشرقی جرمنی سے ہے اور وہ برلن یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے ۱۹۷۸ء تک روس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں جنوبی ایشیا کی عصری تاریخ پر تحقیق کر کے برلن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تکمیل کی۔ فی الوقت وہ کراچی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے اساتذہ کے تبادلے کے پروگرام کے تحت یونیورسٹی میں لیکچر دینے تشریف لائی ہوئی ہیں۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے مسائل پر ان کی آرا بڑی منفرد ہیں۔ جمہوریت کے حوالے سے بھی انہوں نے ہند و پاکستان کے مسائل اور تجربات کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ (ادارہ) ٭ پارلیمانی جمہوریت [مزید پڑھیے]

پاکستان میں ٹرک پینٹنگ آرٹ

May 1, 2005 // 0 Comments

کراچی کا ایک ٹرک پینٹر ۲۲ سالہ حیدر علی ایک گھنے سایہ دار برگد کے نیچے اپنی ایک تازہ تخلیق (پینٹنگ) کو آخری شکل دے رہا تھا‘ جس میں ہرکولَس کے ذریعہ ایک شیر کو قابو کرتے دکھایا گیا تھا۔ اس پینٹنگ میں لال‘ پیلے‘ نیلے‘ ہرے‘ شوخ اور چمکتے رنگوں کا بے دریغ استعمال تھا۔ ان کا دس سالہ بھتیجا فرید خالد تاج محل کی پینٹنگ کے لیے آگے کے اوپری حصے پر سفید رنگ پھیر رہا تھا تاکہ یہ حصہ ٹرک میں تاج کی مانند معلوم ہو۔ حیدر علی کے والد کی مانند جنہوں نے ۸ سال کی عمر سے ہی اپنے بیٹے کو ہاتھ میں برش پکڑا دیا تھا‘ حیدر بھی اپنے بھتیجے فرید کے ساتھ استادی کی روایت جاری رکھے ہوئے [مزید پڑھیے]

پاکستان میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

March 1, 2005 // 0 Comments

گزشتہ سال کے دوران اخبارات کے مطابق ملک بھر کے طول و عرض سے خودکشی کے ۲۵۰۷ واقعات درج ہوئے۔ خودکشی کے ان اعداد و شمار کے علاوہ ۱۶۳۴ افراد نے ملک کے مختلف علاقوں میں خودکشی کی کوشش کی‘ اس طرح ۴۱۴۱ افراد نے مجموعی طور پر خودکشی جیسا غیرانسانی اور مذہبی اقدار کے منافی عمل اختیار کرتے ہوئے انسانی جانیں ضائع کیں۔ پاکستان میں خودکشی آہستہ آہستہ مجموعی قومی صحت کا مسئلہ بنتی جارہی ہے کیونکہ ملک کے نوجوانوں میں معاشرتی و معاشی عوامل مثلاً غربت‘ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔ براعظم ایشیا اور بالخصوص جنوبی ایشیا میں معاشرتی تبدیلیوں‘ غیرمستحکم معاشی نظام‘ ڈپریشن یا ذہنی دبائو‘ منشیات کا استعمال اور کمزور خاندانی رویے خودکشی کے [مزید پڑھیے]

1 7 8 9 10