Abd Add
 

فلسطینی ریاست

فلسطین کی آزادی اور حماس کا وژن

April 16, 2013 // 0 Comments

الزیتونہ سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ کنسلٹیشنز نے حماس کے سیاسی بازو کے سربراہ خالد مشعل کے ایک مقالے پر مبنی دستاویز شائع کی ہے جس سے عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں حماس کے سیاسی فکر کی از سرِ نو تشکیل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بیروت میں ۲۸ اور ۲۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو الزیتونہ سینٹر کے زیراہتمام عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں ’’اسلامی تحاریک اور فلسطینی کاز‘‘ کے زیر عنوان ایک کانفرنس ہوئی، جس میں خالد مشعل نے مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کے بعد خالد مشعل نے خود اس مقالے کی نئے سِرے سے تدوین کی اور اشاعت کے لیے الزیتونہ سینٹر کو بھیجا۔ اس مقالے کو حماس کے سیاسی فکر کے حوالے سے ایک [مزید پڑھیے]

فلسطینیوں میں مصالحت: کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے؟

April 16, 2013 // 0 Comments

جو لوگ فلسطینی دھڑوں کا اتحاد چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ گزری ہوئی باتوں کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھی جائے، ان کے دل خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ ۲؍اپریل کو حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ خالد مشعل نے دوسری بار تنظیم کا سربراہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ حماس (جو غزہ کی پٹی پر حکمران ہے) اور مغربی کنارے پر متصرف الفتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ جب خالد مشعل کے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے پولنگ ہو رہی تھی تب اسرائیل کی سخت نگرانی میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں کا نظم و نسق چلانے والی فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم سلام فیاض کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور انہیں [مزید پڑھیے]

اسرائیل، فلسطین اور الخلیل

August 16, 2012 // 0 Comments

فلسطین کے مسئلے کا حل تلاش کرنے والوں کی نظر میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دو ریاستوں کے نظریے پر عمل کی صورت میں الخلیل کا مستقبل کیا ہوگا؟ اگر اسرائیل کی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے غرب اردن میں واقع اسرائیلی آبادیوں کو ہٹانے پر رضامند ہو بھی جائے تو بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ قریاتِ اربعہ (Kiryat Arba) اور الخلیل (Hebron) سے اسرائیلی آباد کاروں کو کس طور نکال پائے گی کیونکہ الخلیل مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے مقدس مقامات کا حامل ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کو الگ الگ ریاستوں کے روپ میں دیکھنے والے لوگ اس خیال کے حامل ہیں کہ دونوں ریاستیں ساتھ ساتھ جی سکتی ہیں اور ۱۹۶۷ء سے پہلے کی سرحدوں [مزید پڑھیے]

اُمید کا دامن تھام رکھا ہے!

January 16, 2011 // 0 Comments

سابق اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان نے ۱۹۴۸ء میں ملک کے قیام کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اب فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض وہی کردار کر رہے ہیں۔ وہ فلسطینی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹام سیگیو: آپ آج بھی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اب ڈیڈ لائن کے مطابق صرف نو ماہ رہ گئے ہیں۔ کیا تب تک ریاست معرض وجود میں آ جائے گی؟ سلام فیاض: میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ ریاست کے لیے مستحکم ادارے معرضِ وجود میں آ جائیں۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے بہتر انفرا اسٹرکچر اور اعلیٰ درجے کی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ ٹام سیگیو: کوئی خاص تاریخ بھی مقرر [مزید پڑھیے]

ریاستی ادارے قائم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں!

December 1, 2009 // 0 Comments

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم سلام فیاض نے صہیونیت کے بانیوں سے ایک سبق ضرور سیکھا ہے، یہ کہ پہلے ادارے قائم ہونے چاہئیں۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام سے قبل صہیونیت کے قائدین نے ادارے قائم کیے تھے۔ سلام فیاض بھی چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے مضبوط ادارے قائم کردیے جائیں تاکہ وہ ۲ سال میں آزاد فلسطینی ریاست کا باضابطہ اعلان کرنے کے قابل ہوسکیں۔ نیوز ویک کی لیلیٰ ویمتھ نے رام اللہ میں سلام فیاض سے جو گفتگو کی اس کے اقتباسات ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ نیوز ویک: آپ دو سال میں ادارے قائم کرکے فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں؟ سلام فیاض: ہم نے ریاست کے بنیادی اور فعال ادارے قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا [مزید پڑھیے]

قومی اہداف کیلئے فلسطینیوں کا سیاسی اشتراکِ عمل ضروری ہے

May 16, 2009 // 0 Comments

جنوری ۲۰۰۶ء میں پورے فلسطین میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تو حماس اکثریتی پارلیمانی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ حماس نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے اسمٰعیل ھنیہ کو نامزد کیا۔ انہیں فلسطین کی منتخب قومی حکومت کی قیادت کرنے کا اعزاز ملا۔ لیکن فلسطینیوں کا اپنے معاملات چلانے کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا اور تحریک مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کوشاں رہنا پہلے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو گوارا نہ تھا۔ بعد ازاں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کا یہ جادو صدر محمود عباس اور ان کی جماعت پر بھی چل گیا اور منتخب قومی فلسطینی حکومت کو توڑنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ یہ کوششیں فلسطینی اتھارٹی نے اپنے تئیں آسانی سے کامیاب بنائیں البتہ غزہ میں آج بھی [مزید پڑھیے]

کیا فلسطینی ریاست قائم ہو سکے گی؟

January 16, 2009 // 0 Comments

فلسطینی آج تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں اور شاید یہ ان کی بقا کی آخری جنگ ہو کہ جس میں فتح و کامرانی ان کے لیے عشروں کے خواب کی تعبیر کا مؤجب بنے گی۔ مگر دوسری جانب مسلم ممالک کا سب سے بڑا اور اہم اتحادی امریکا جس کی فوج دنیا کے ہر براعظم میں موجود ہے کے خیالات اور عزائم اس بات کی عکاسی کر رہے ہیں کہ فلسطین ایک خطۂ مملکت کے طور پر قائم نہ ہو۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق سفیر جان بولٹن نے گزشتہ دنوں ایک مقالہ پیش کیا جس میں کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے امکان کو مسترد کر [مزید پڑھیے]

1 2