Abd Add
 

سیاسی اسلام

’’سیاسی اسلام‘‘ کو چیلنج کرنا، بھیانک غلطی!

October 1, 2017 // 0 Comments

اسلام پسندوں کا اقتدار میں آنا پریشان کن رہا ہے، لیکن یہ عملی سیاست میں کار آمد ہوسکتے ہیں، انہیں کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ ایک دہائی پہلے مشرق وسطیٰ میں اسلامی تحریکیں ایک غیر معمولی طاقت تھیں،جب مشرق وسطیٰ کے آمروں نے عرب بغاوتوں کو دبانے کی کوشش کی اس وقت اخوان المسلمون اور اس کے زیر اثر جماعتوں نے ریاست اور اقتدار کو اپنے قبضے میں کرلیا ایسا لگتا تھا کہ اقتدار،محل،فوجی چھاؤنیوں اور خفیہ پولیس کے ہاتھوں سے نکل کر مسجدوں اور بیلٹ بکس میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس وقت عرب دنیا پریشان کن صورتحال سے گزر رہی ہے، جو اسلام پسند تحریکیں جمہوری رجحان رکھتی تھیں اور جمہوری اسلام کو لے کر آگے آناچاہتی تھیں وہ اب اس جمہوریت [مزید پڑھیے]

حکمرانی بذریعہ ’’سیاسی اسلام‘‘

September 16, 2017 // 0 Comments

کسی زمانے میں اخوان المسلمون کو اسلامی دنیا کی ایک انتہائی متحرک اور نتیجہ خیز تحریک کا درجہ حاصل تھا، مگر اب اس کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ایک رکن نے حال ہی میں اپنے ساتھیوں اور مجموعی طور پر تحریک کی حالت بیان کرنے کے لیے ’’مردہ، مرتے ہوئے یا زیر حراست‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ جنوری ۲۰۱۱ء میں عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر دوڑی، جس کے بعد اخوان نے مصر میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ۲۰۱۲ء میں وہ حکمران جماعت بن گئی۔ مگر جنرل عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں فوج نے، عوام کے بھرپور تعاون سے، اخوان کو اقتدار سے نکال پھینکا۔ چار سال بعد اب جنرل السیسی مصر کے صدر ہیں اور انہوں نے اخوان کو ربع [مزید پڑھیے]

سیاسی اسلام

January 16, 2014 // 0 Comments

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، جو سیاسی اسلام کو جنم دینے والے دو تین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، اگر آج زندہ ہوتے تو اسلامی دنیا کا سفر کرتے ہوئے انہیں چند معمولی سے خوشگوار اور بہت سے انتہائی ناخوشگوار تجربات کا سامنا ہوتا۔ ان کے انتقال کے بعد آج پاکستان (بالخصوص افغانستان سے ملحق علاقوں میں) اُن کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی ایک مٔوثر اور منظم سیاسی قوت ہے۔

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

ترکی: سر کے اسکارف نے پھر سر اٹھا لیا

December 1, 2010 // 0 Comments

جرمن صدر کرسچین ولف نے حال ہی میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ترکی کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ جرمن مہمانوں کا سرکاری سطح پر استقبال کرنے والوں میں ترک خاتون اول حیرالنساء بھی شامل تھیں۔ انہوں نے گارڈ آف آنر پیش کرنے والوں سے سلامی بھی لی اور سرخ قالین پر مہمانوں کی ہم رکاب بھی ہوئیں۔ آپ سوچیں گے اس میں غیرمعمولی بات کیا ہے۔ ۲۰۰۷ء میں جرنیلوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ عبداللہ گل کو صدر بننے سے روکنے کے لیے مداخلت کریں گے کیونکہ ان کی اہلیہ سر پر اسکارف رکھتی ہیں۔ تب سے ترک خاتون اول ایسی تقاریب میں شرکت سے گریز کرتی آئی ہیں جن میں جرنیل شریک ہوں۔ ترکی میں سر کا اسکارف آج بھی اسلام پسند اور [مزید پڑھیے]