Abd Add
 

رجب طیب ایردوان

ترکی میں جمہوریت کا ’’زوال‘‘

July 1, 2013 // 0 Comments

گیارھا جون کو جب استنبول میں پولیس مظاہرین سے سختی سے نمٹ رہی تھی، تب وزیراعظم رجب طیب اردوان نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا رویہ سخت گیر اور غیر لچکدار ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کوئی مشتعل مظاہرین سے نمٹنے کو سختی کہہ رہا ہے تو اسے مایوسی ہوگی یعنی وزیر اعظم کے رویے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ استنبول کے تقسیم اسکوائر میں پولیس نے مظاہرین کو سختی سے کچلا۔ ترکی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب ۳۱ مئی کو پولیس نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے سِرے پر واقع غازی پارک کے نزدیک مظاہرین کے خلاف سخت [مزید پڑھیے]

ترکی کا مستقبل اور صدارت کے خواب

April 1, 2013 // 0 Comments

کرد کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی زہرہ کیکن (Zehra Cacan) ایک تازہ قبر کے سرہانے احترام سے بیٹھی ہے۔ قبر میں اس کا تیس سالہ بیٹا ہے جو ترک فوج سے تصادم میں مارا گیا تھا۔ یہ منظر دیار بکر کا ہے جو عراق سے ملحق سرحد پر واقع ہے۔ اس علاقے میں فوج سے تصادم میں کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں نوجوان مارے گئے ہیں۔ ان کی قبروں کو سُرخ، زرد اور سبز رنگوں کی پٹّی کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ چند برس قبل تک کرد باغیوں کی قبروں کو یوں نمایاں کرنا ممکن نہ تھا اور کرد زبان بولنے پر بھی تقریباً پابندی تھی۔ شام سے آنے والے ایک کرد یارن ایبی (Yarin Abi) نے بتایا۔ ’’ہم بتا نہیں [مزید پڑھیے]

ترکی اور اس کی فوج، ایردوان اور ان کے جرنیل

February 16, 2013 // 0 Comments

ایک زمانہ تھا، جب ترکی میں فوج ہی سب کچھ تھی اور سب کچھ اسی کے ہاتھ میں تھا۔ وہی حکومتیں بناتی اور گراتی تھی مگر پھر سب کچھ بدل گیا۔ یہ تبدیلی راتوں رات رونما نہیں ہوئی۔ سویلین حکومتوں نے اپنے آپ کو عمدگی سے منوایا ہے۔ کرپشن کی سطح نیچے آئی ہے اور قومی وسائل کو قومی تعمیر پر صرف کرنے کا مزاج پنپ گیا ہے۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ فوج نے اب دفاعی پوزیشن اختیار کرلی ہے اور کسی بھی معاملے میں غیر ضروری مہم جوئی سے یکسر گریز کیا جاتا ہے۔ ذرا ایک ایسے ملک کا تصور کیجیے جس کے پڑوسیوں میں شام، عراق اور ایران شامل ہیں اور جو بحیرۂ ایجین، بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود سے گھرا ہوا [مزید پڑھیے]

ترک فوج کا مسئلہ

May 16, 2012 // 0 Comments

جب ۱۹۹۷ء میں جرنیلوں نے ترکی میں اسلام نواز عناصر کی پہلی حکومت کا تختہ الٹا تھا تب دعویٰ کیا تھا کہ ’’اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف جنگ ہزار سال جاری رہے گی‘‘۔ اس مابعدِ جدیدیت بغاوت میں ایک بھی گولی نہیں چلی تھی۔ فوج نے عدلیہ، کاروباری طبقے اور میڈیا میں اپنے دوستوں اور ہم نواؤں کی مدد سے وزیر اعظم نجم الدین اربکان کے خلاف مہم چلائی اور انہیں اقتدار کے ایوان سے باہر کردیا۔ نجم الدین اربکان کو ایسی ہدایات جاری کرنے پر مجبور کیا گیا جن میں انہوں نے اپنے بیانات اور اعلانات کی تردید کی تھی۔ سیکولراِزم کو بڑھاوا دینے کا جنون حد سے گزرا۔ محض بے عقل ہو جانا کافی نہ تھا، اس معاملے میں سفاک ہونے سے بھی [مزید پڑھیے]

طیب ایردوان کو ’’مشکلات‘‘ کا سامنا!

March 1, 2012 // 0 Comments

ترک وزیراعظم رجب طیب اردغان کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر نئے دشمنوں کا سامنا ہے۔ ۹ برسوں کے دوران اردغان نے کئی محاذوں پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انتخابات میں انہیں پہلے سے زیادہ ووٹ ملتے رہے ہیں۔ کسی زمانے میں انتہائی طاقتور گردانے جانے والے جرنیلوں نے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور ان کی پارٹی اے کے پی (جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی) پر پابندی عائد کرانے کی سازش اور کوشش بارہا کی مگر ہر بار اردغان نے ان کا بھرپور انداز سے سامنا کیا

1 2 3