Abd Add
 

رجب طیب ایردوان

بگڑتے ہوئے ترک اسرائیل تعلقات

October 1, 2011 // 0 Comments

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں تلخی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ دونوں کے تعلقات پہلے ہی بہت اچھے نہیں تھے۔ اب حالات نے ان میں مزید دراڑ ڈال دی ہے۔ ۲ ستمبر ۲۰۱۱ء کو ترکی نے اسرائیلی سفیر کو باضابطہ نکال دیا جو اب تک کی اطلاعات کے مطابق واپس اسرائیل پہنچ بھی چکے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل سے عسکری روابط بھی منقطع کرلیے ہیں۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے لیبیا کا دورہ کیا ہے اور اب جلد ہی مصر کا دورہ بھی کرنے والے ہیں۔ ۱۵ برسوں میں کسی ترک لیڈر کا یہ پہلا دورہ ہوگا جس میں کئی عسکری اور معاشی معاہدے متوقع ہیں۔ مصر کے دورے میں طیب اردگان ممکنہ طور پر غزہ بھی جائیں [مزید پڑھیے]

ترکی کی تقلید آسان نہیں!

September 1, 2011 // 0 Comments

بہت سے معاملات میں محسوس ہوتا ہے کہ ترکی کے اسلام پسند عناصر اپنی بات منوانے اور سب کچھ درست کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فوج کی مشاورت سے تقویت پانے والے سیکولر ازم کے سائے سے الگ ہوکر ابھرنے میں انہیں خاصا وقت لگا۔ استنبول کی کامرس یونیورسٹی کے جواں سال پروفیسر باقر بیرت اوزیپیک کو مصر میں عوامی انقلاب کی لہر نے بہت متاثر کیا ہے۔ انہوں نے دو ساتھیوں کے ساتھ حال ہی میں قاہرہ یونیورسٹی کے تحت منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ان کے خیالات کا خیر مقدم کیا گیا۔ ایک رات وہ قاہرہ کے مشہور زمانہ تحریر اسکوائر گئے اور وہاں انہوں نے دیکھا کہ نوجوان ٹریفک کنٹرول کر رہے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

ترک فوج قابو میں، مگر۔۔۔

September 1, 2011 // 0 Comments

ترک سیاست دانوں اور جرنیلوں کے درمیان طویل مدت سے جاری کشمکش اب ختم ہوچکی ہے۔ سخت گیر سیکولر عناصر کے نزدیک یہ اتا ترک کے متعارف کرائے ہوئے نظام کی ایک شرمناک شکست ہے۔ اور جو عناصر اب تک اتا ترک کے نظام کی مخالفت کرتے آئے ہیں یا سیکولر عناصر سے منحرف ہوکر الگ ہوگئے ہیں ان کے نزدیک یہ جمہوریت کی فتح ہے۔ ۲۹ جولائی کو ترکی کی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کا مستعفی ہو جانا اس کشمکش کا نقطہ کمال تھا جو نو سال قبل اسلامی نظریات کی حامل جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے برسر اقتدار آنے سے شروع ہوئی تھی۔ ۱۹۶۰ء سے اب تک ترک فوج نے چار مرتبہ منتخب سویلین حکومت کو ختم کیا ہے مگر اب اس [مزید پڑھیے]

1 2 3