Abd Add
 

روس

عالمی بساط پر روس کی چالیں

March 1, 2016 // 0 Comments

بطور وزیراعظم مئی ۲۰۱۲ء میں ولادی میر پیوٹن تیسری بار روس کے صدر بنے۔ اس کے بعد سے روس بین الاقوامی سطح پر زیادہ جارحانہ اور مقامی سطح پر زیادہ جابرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ روس کریمیا پر حملہ کرکے اسے غیرقانونی طور پر اپنے ساتھ شامل کرچکا ہے۔ اس نے مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت، تربیت اور ہتھیار بندی کی ہے اور ہزاروں فوجیوں کو وہاں لڑنے بھیجا ہے۔ وہ اب تک جمہوریہ جارجیا کے ۲۰ فیصد حصے پر قابض ہے اور ۲۰۰۸ء کے چھ نکاتی امن معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے، جس کے بعد ۲۰۰۸ء کی جارجیا جنگ ختم ہوئی تھی۔ روسی لڑاکا طیارے جنگ میں الجھے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں فضائی حملے کر [مزید پڑھیے]

ترکی اور روس کے قریبی تعلقات

December 16, 2012 // 0 Comments

شام کو شاید یقین نہ آئے یا اسے کوئی اعتراض بھی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ ترکی اور روس کے تعلقات قریبی نوعیت کے ہیں اور انہوں نے بہت سے اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور میں ایک دوسرے سے تعاون بھی کیا ہے۔ شام میں تیرہ سال تک قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے ایک اسکالر محمد مصطفی کا کہنا ہے کہ بشار الاسد قصائی اور پوٹن شیطان ہے اور رجب طیب اردغان ولی ہے۔ ترک شام سرحد کے نزدیک سیلپینار شہر کے پناہ گزین کیمپ میں محمد مصطفی اور دیگر بیس ہزار شامی باشندے سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ منحرف فوجیوں پر مشتمل فری سیریا آرمی کے ایک سپاہی ابراہیم جبار کا کہنا ہے کہ اگر روس مدد سے ہاتھ کھینچ [مزید پڑھیے]

1 2 3