Abd Add
 

روس

شمالی کوریا کو کچھ مزید چاہیے!

August 1, 2005 // 0 Comments

جیسا کہ دونوں کوریا‘ امریکا‘ چین‘ جاپان اور روس ایک سال سے زائد کی مدت میں شش فریقی گفتگوکے پہلے رائونڈ کی تیاری کر رہے ہیں‘ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار سے غیرمسلح کیے جانے کے مرکزی مسئلے پر پیش رفت کی امید ہو چلی ہے۔ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو عظیم مقدار میں بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے‘ اس شرط پر کہ پیانگ یانگ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک سرسری اندازے کے مطابق اس وقت شمالی کوریا کے پاس ۸ جوہری بم ہیں۔ امریکا نے مراعات کے حوالے سے شاید ہی کوئی متعین بات کی ہو لیکن وہ جنوبی کوریا کی پیشکش کے سبب ایک طرح کا اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس نے شمالی کوریا [مزید پڑھیے]

عالمی جنگ کا خاتمہ مگر۔۔۔

May 16, 2005 // 0 Comments

دوسری عالمی جنگ میں نازیوں پر حلیفوں کی فتح کی ۶۰ویں سالگرہ اس اعتبار سے اہم رہی کہ آج پھر دنیا قتل و غارتگری اور انصاف سے محروم کمزور آبادیوں پر ظلم و ستم کے دور سے گزر رہی ہے۔ ویتنام کی جنگ ہو یا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم کی تباہ کاریوں کا لامتناہی سلسلہ بھیانک خواب کی طرح نئی دنیا کا مسلسل پیچھا کر رہا ہے۔ جنگیں تو ختم ہو جاتی ہیں‘ انسانی ہاتھوں سے انسانوں کی تباہ کاریاں بھیانک یاد بن جاتی ہیں۔ کوئی بھی انصاف پسند اور ہمدرد انسان یہ نہیں چاہے گا کہ یہ یادیں‘ ماضی سے نکل کر حال و مستقبل تک برقرار رہیں۔ گذشتہ نصف صدی میں بہت کچھ بدل گیا۔ انسان نے ترقی کی وہ منزلیں [مزید پڑھیے]

پاکستان میں جمہوریت سے متعلق پس و پیش

May 1, 2005 // 0 Comments

ڈاکٹر بیٹینا روبوٹکا (Betina Robotka) کا تعلق مشرقی جرمنی سے ہے اور وہ برلن یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے ۱۹۷۸ء تک روس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں جنوبی ایشیا کی عصری تاریخ پر تحقیق کر کے برلن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تکمیل کی۔ فی الوقت وہ کراچی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے اساتذہ کے تبادلے کے پروگرام کے تحت یونیورسٹی میں لیکچر دینے تشریف لائی ہوئی ہیں۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے مسائل پر ان کی آرا بڑی منفرد ہیں۔ جمہوریت کے حوالے سے بھی انہوں نے ہند و پاکستان کے مسائل اور تجربات کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ (ادارہ) ٭ پارلیمانی جمہوریت [مزید پڑھیے]

دنیا میں اس وقت ۱۲۰۰۰ جوہری ہتھیار موجود ہیں!

March 1, 2005 // 0 Comments

اسلحوں سے متعلق ایک امریکی تحقیقی ادارہ کے مطابق دنیا میں اس وقت ۱۲۰۰۰ سے زائد جوہری اسلحے ہیں۔ ان میں سے ۳۰۰۰ اسلحوں کے علاوہ یہ تمام اسلحے تسلیم شدہ جوہری قوتوں کے پاس ہیں۔ واشنگٹن کے آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے اندازہ کے مطابق ۶۰۰۰ امریکا کے پاس‘ ۵۰۰۰ روس کے پاس‘ ۳۵۰ فرانس کے پاس‘ ۳۰۰ چین کے پاس اور ۲۲۰ سے کچھ کم برطانیہ کے پاس ہیں۔ یہ پانچوں ممالک ۱۹۶۸ء میں جوہری عدم توسیع کے معاہدے (NPT) کے تحت جوہری قوت تسلیم کیے گئے تھے۔ امریکا نے ۱۹۴۵ء میں ہی جوہری صلاحیت حاصل کر لی تھی جبکہ روس نے ۱۹۴۹ء میں‘ برطانیہ نے ۱۹۵۰ء میں‘ فرانس نے ۱۹۶۰ میں اور چین نے ۱۹۶۴ء میں حاصل کی تھی۔ امریکا کے بارے [مزید پڑھیے]

1 2 3