Abd Add
 

سعودی عرب

سعودی خارجہ پالیسی جارحیت کی راہ پر

November 1, 2013 // 0 Comments

سفارت کاری کے میدان میں سعودی عرب سے کسی بھی نوع کی تیزی کی توقع نہیں رکھی جاتی مگر ۱۸؍اکتوبر کو سعودی حکومت نے سفارتی معاملات میں جس انداز کا flip-flop کیا، وہ بہت حد تک حیرت انگیز تھا۔ اس دن صبح اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو سال کے لیے سعودی عرب کا غیر دائمی رکن کی حیثیت سے انتخاب ملک کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ سلامتی کونسل میں پہلی بار غیر دائمی رکن کی حیثیت سے منتخب ہونا سعودی عرب کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل موقع تھا۔ اس پر سعودی جتنی بھی خوشی مناتے، کم تھی۔ مگر پھر چند ہی گھنٹوں کے اندر دارالحکومت ریاض سے پیغام آیا [مزید پڑھیے]

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

سعودی عرب میں ’’جوان قیادت‘‘ کی تیاری!

December 1, 2012 // 0 Comments

سعودی عرب میں بہت خاموشی سے ایک نئے اور خاصے اہل وزیر داخلہ نے منصب سنبھال لیا ہے۔ دنیا بھر میں تو یہ ہوتا ہے کہ وقت بتانے والے برتن یعنی شیشے کی گھڑی میں ریت ایک مخصوص رفتار سے گرتی رہتی ہے اور وقت کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ سعودی عرب میں معاملہ بہت مختلف ہے۔ یہاں وقت بتانے والی شیشے کی روایتی گھڑی میں ریت تیل سے ملاپ کے بعد جم جاتی ہے اور گرنے کا عمل تقریباً رک جاتا ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ کوئی آکر شیشے کی گھڑی یا ’’آور گلاس‘‘ کو ہلا دیتا ہے اور اچانک مٹی کے لوتھڑے ختم ہونے لگتے ہیں اور ایک بڑا حصہ نیچے گر جاتا ہے۔ ۵ نومبر کو بھی ایسا ہی کچھ ہوا [مزید پڑھیے]

سعودی عرب: بے فکری کے دن ختم ہوئے!

March 16, 2012 // 0 Comments

سعودی عرب میں ایک طرف بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورت حال ملک کی معیشت پر بھی بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ معاشرتی اور سیاسی تبدیلیاں حکومت پر اصلاحات کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔

سعودی ولی عہد کا انتخاب

November 16, 2011 // 0 Comments

ان کا طویل ٹائٹل ان کی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ وہ سعودی عرب کے ولی عہد، ملک کے چیف انسپکٹر، اول نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع تھے۔ ان کی تدفین میں شریک ہونے والی شخصیات سے بھی یہی بات مترشح ہوئی کہ ان کا منصب بہت بلند تھا۔ بہت سی دوسری حکومتی شخصیات کے ساتھ ساتھ شام کے صدر بشارالاسد کے ایک چچا اور ایران کے وزیر خارجہ بھی تدفین میں شریک تھے۔ تدفین کے بعد تعزیت کے لیے امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن بھی آئے۔ تدفین میں اعلیٰ غیر ملکی شخصیات کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ سعودی ولی عہد سلطان بن عبدالعزیز غیر معمولی اثر و رسوخ کے حامل تھے۔ وہ دنیا کے امیر ترین افراد [مزید پڑھیے]

بنگلا دیش: جنگی جرائم کا اصل نشانہ ’’جماعت اسلامی‘‘

August 1, 2010 // 0 Comments

مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا ہوئے ۴۰ سال ہوچکے ہیں مگر اب تک بنگلا دیش میں ’’جنگی جرائم‘‘ کے نام پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹربیونل کے سامنے کھڑا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ۴۰ سال قبل سقوط ڈھاکا کے وقت برپا ہونے والے ہنگاموں میں تیس لاکھ افراد موت کے گھاٹ اترے تھے۔ حکومت دعوے کرتی رہی ہے کہ اس قتل عام کے مرتکب افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے تین ماہ قبل جنگی جرائم کی تفتیش کا ٹربیونل قائم کیا تھا۔ یہ اس انتخابی وعدے کی تکمیل کے لیے تھا کہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں عوامی لیگ کو کامیابی [مزید پڑھیے]

میں مسلمان کیسے ہوا۔۔۔؟

September 16, 2005 // 0 Comments

گذشتہ سے پیوستہ سعودی عرب میں عربی زبان سے بالکل نابلد تھا، بلکہ مجھے اس سے نفرت بھی تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ اس زبان کی بین الاقوامی طور پر کوئی اہمیت نہیں، اس لیے اسے سیکھنا اور سمجھنا غیرضروری ہے۔ میں اورمیرے ساتھی سعودی عرب کے مشرقی حصے میں ایک بینک کے تمام کمپیوٹرز اور دیگر ایسے آلات کی اصلاح کرتے تھے۔ میرے ساتھ کام کرنے والے تمام انجینئر انگریزی زبان سے خوب آشنا تھے، اس لیے بھی ہمیں عربی بولنے اور سیکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ایک دن میں نے دمام شہر میں ایک ٹیکسی کرائے پر لی اور اس سے پندرہ ریال کرایہ طے کیا۔ ڈرائیور نہایت صاف ستھرے لباس میں تھا، اس کی خوب لمبی داڑھی بھی تھی۔ دیکھنے سے [مزید پڑھیے]

میں مسلمان کیوں ہوا۔۔۔؟

September 1, 2005 // 0 Comments

عرصہ دراز سے مختلف ممالک کے لوگ بڑی تعداد میں سعودی عرب آرہے ہیں تاکہ یہاں کام کر کے کچھ سرمایہ جمع کر لیں اور اپنی معاشی زندگی بہتر بنا سکیں۔ اس لحاظ سے یہ ملک نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی پرکشش ہے۔ صالح ایچان بھی اسی وجہ سے فلپائن سے سعودی عرب آئے، ان کا پیدائشی نام جوپال ایچان تھا۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران انہیں مختلف تہذیبی اور معاشرتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا، جن سے نمٹنے کے لیے انہیں بے حد جدوجہد کرنی پڑی۔ ان کی فراست، محنت اور اخلاص سے عجیب و غریب نتائج سامنے آئے، جو کہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھے۔ ان کی دلچسپ کہانی ہر بنی نوع انسان [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5