Abd Add
 

سعودی عرب

میں مسلمان کیسے ہوا۔۔۔؟

September 16, 2005 // 0 Comments

گذشتہ سے پیوستہ سعودی عرب میں عربی زبان سے بالکل نابلد تھا، بلکہ مجھے اس سے نفرت بھی تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ اس زبان کی بین الاقوامی طور پر کوئی اہمیت نہیں، اس لیے اسے سیکھنا اور سمجھنا غیرضروری ہے۔ میں اورمیرے ساتھی سعودی عرب کے مشرقی حصے میں ایک بینک کے تمام کمپیوٹرز اور دیگر ایسے آلات کی اصلاح کرتے تھے۔ میرے ساتھ کام کرنے والے تمام انجینئر انگریزی زبان سے خوب آشنا تھے، اس لیے بھی ہمیں عربی بولنے اور سیکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ایک دن میں نے دمام شہر میں ایک ٹیکسی کرائے پر لی اور اس سے پندرہ ریال کرایہ طے کیا۔ ڈرائیور نہایت صاف ستھرے لباس میں تھا، اس کی خوب لمبی داڑھی بھی تھی۔ دیکھنے سے [مزید پڑھیے]

میں مسلمان کیوں ہوا۔۔۔؟

September 1, 2005 // 0 Comments

عرصہ دراز سے مختلف ممالک کے لوگ بڑی تعداد میں سعودی عرب آرہے ہیں تاکہ یہاں کام کر کے کچھ سرمایہ جمع کر لیں اور اپنی معاشی زندگی بہتر بنا سکیں۔ اس لحاظ سے یہ ملک نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی پرکشش ہے۔ صالح ایچان بھی اسی وجہ سے فلپائن سے سعودی عرب آئے، ان کا پیدائشی نام جوپال ایچان تھا۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران انہیں مختلف تہذیبی اور معاشرتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا، جن سے نمٹنے کے لیے انہیں بے حد جدوجہد کرنی پڑی۔ ان کی فراست، محنت اور اخلاص سے عجیب و غریب نتائج سامنے آئے، جو کہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھے۔ ان کی دلچسپ کہانی ہر بنی نوع انسان [مزید پڑھیے]

الجزیرہ ٹی وی سے متعلق کچھ حقائق

May 16, 2005 // 0 Comments

الجزیرہ ٹی وی کے حوالے سے بعض سٹیلائٹ ٹی وی اور انٹر نیٹ ذرائع نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ ان کے مطابق ان رپورٹوں میں الجزیرہ نیٹ ورک کے علاقائی و بین الاقوامی نیٹ ورک قطری حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ پہلے بی بی سی عربی نشریات کی ملکیت تھا اور سعودی عربیہ اس کے اخراجات برداشت کرتا تھا۔ جب الجزیرہ نے ایک سعودی منحرف کا انٹرویو نشر کیا تو سعودی عرب نے اس پر اعتراض کیا لیکن بی بی سی نے اس طرح کے پروگرام کو روکنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا سعودی حکومت اس بات پر راضی ہو گئی کہ اس ٹی وی نیٹ ورک کو فروخت کر دیا جائے اور قطری شہزادہ (ولی عہد) نے اسے ۱۵ کروڑ ڈالر کے [مزید پڑھیے]

1 3 4 5