Abd Add
 

شکستِ آرزو

خواجہ خیرالدین اور احسن منزل

March 1, 2011 // 0 Comments

نیو ٹوئنٹی میں میری کوٹھری سے نزدیک ہی خواجہ خیرالدین بھی چار ماہ رہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے خائف رجحان، میں نے ان میں بھی دیکھا۔ میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا۔ جیل میں ڈالے جانے سے قبل تک میں نے ان کا صرف نام سنا تھا۔ کچھ ہی دنوں میں ہم اچھے دوست بن گئے۔ وہ بھی خاصے نفاست پسند تھے اور جیل کے گندے ماحول سے پریشان رہا کرتے تھے۔ میری طرح وہ بھی پنیر کھانے کے بہت شوقین تھے اور اسلام کے جواز سے متعلق میرے نظریات سے متفق تھے۔ البتہ اسلام کے بارے میں ان کے خیالات خاصے لگے بندھے اور قدرے فرسودہ تھے۔ تاہم وہ میرے اس نکتے کو سمجھتے تھے کہ اسلام کو جدید فکر کی [مزید پڑھیے]